Express News:
2026-07-24@05:54:11 GMT

خدمت اور عشق کی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے اپنی پارٹی کے بانی سے جس طرح کھلے عام عشق کا اعلان کیا ہے، ایسا اظہار پہلے کسی وزیر اعلیٰ نے نہیں کیا جب کہ صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ گنڈاپور بھی سابق وزیر اعظم کے بہت قریب تھے مگر وہ بھی اپنے بانی کے عشق میں اس انتہا پر نہیں گئے جس کا اظہار موجودہ وزیر اعلیٰ آفریدی کر چکے ہیں۔ کے پی کی پی ٹی آئی کی بارہ سالہ حکومت میں وہاں پرویز خٹک اور محمود خان بھی پانچ سال وزیر اعلیٰ رہے مگر انھوں نے کبھی اپنے سیاسی عشق کا کبھی اعلانیہ اظہار نہیں کیا تھا اور اپنے بانی سے عمر میں بڑے وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے اپنے بانی کے جلسے میں ڈانس ضرور کیا تھا مگر منہ سے اپنے عشق کا اظہار نہیں کیا تھا جس کے بعد محمود خان نے بھی عشق کی سیاست نہیں دکھائی تھی اور دونوں ہی اب اپنے بانی کو چھوڑ چکے ہیں۔

کے پی کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں 2024 میں ہٹائے گئے وزرائے اعلیٰ سابق بزرگ وزرائے اعلیٰ سے کم عمر ہیں مگر گنڈا پور سے کم عمر موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے عشق کا برملا اظہار کرکے سب کو پیچھے چھوڑ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل میں گھرے صوبے کی خدمت کرنے نہیں بلکہ اپنے بانی سے عشق نبھانے کے لیے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ خدمت میں تمام صوبوں سے آگے ہے اور صحت کے میدان میں سندھ کا مقابلہ کسی صوبے سے نہیں دنیا سے ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں ان کی پھوپھی وزیر صحت ہیں جو سیاست سے زیادہ خدمت کو ترجیح دے کر اپنی وزارت پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ صدر مملکت نے باہمی معاہدے کے تحت پنجاب اور کے پی میں پیپلزپارٹی کے گورنر رکھنے تھے، جس پر پنجاب میں انھوں نے پنجاب کے کسی اہم پی پی رہنما کی بجائے ایک غیر معروف شخصیت سردار سلیم حیدر کو گورنر پنجاب مقرر کیا اور سابق گورنر پنجاب احمد محمود اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ جیسے تجربے کار سیاستدان کو اہمیت نہیں دی اور پی پی میں واپس آنے والے ندیم افضل چن کو اہمیت دی جو صدر زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، جو پنجاب میں پی پی کے لیے کچھ کر سکتے تھے ۔ بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانا رہ گیا ہے اور وہ ایسے ہی بیانات دیتے آ رہے ہیں جس سے پنجاب میں پی پی کو اب تک تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، جو شاید پی پی چیئرمین بلاول زرداری کا انتخاب ہیں۔

کے پی میں ضرور ایک سینئر رہنما فیصل کریم کنڈی کو اہمیت دی گئی جو اپنے ضلع ڈی آئی خان میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ڈیڑھ سال تک سخت مزاحمت کرتے رہے مگر نیا وزیر اعلیٰ آنے کے بعد خاموش نظر آ رہے ہیں اور صدر مملکت کے بھی قریب ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ اپنے چیئرمین بلاول زرداری کی محبت اور عشق میں مبتلا ہیں جنھیں بلاول زرداری نے دوبارہ وزیراعلیٰ بنوایا تھا جس کے صلے میں وہ بھی بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل میں وزیر اعظم دیکھنے کے لیے ازحد کوشاں ہیں اور ہر وقت بلاول بھٹو کے قریب رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو سندھ کے مسائل سے زیادہ اپنے نوجوان چیئرمین کی خوشنودی کی زیادہ فکر رہتی ہے اور وہ بلاول بھٹو کے وژن کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سندھ کی وزارت اعلیٰ پر زیادہ اجارہ داری سیدوں کی رہی ہے۔ 1989 میں بے نظیر بھٹو نے آفتاب میرانی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا جن کے لیے مشہور تھا کہ وہ محترمہ کے نہایت ہی قریب تھے جنھیں بعد میں محترمہ نے وزیر دفاع بھی مقرر کیا تھا اور صدر زرداری بھی انہیں اہمیت دیتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا عشق ان کے غیر ملکی دورے ہیں۔ وہ ہر ماہ ہی نہیں بلکہ ایک ماہ میں کئی کئی غیر ملکی دورے کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تو غیر ملکی دوروں میں وزیر اعظم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 اقتدار میں آنے کی ہر سیاستدان کی خواہش ہوتی ہے مگر عقب کے دروازے سے ناکامی کے بعد جو جنرل پرویز مشرف نے پوری نہ ہونے دی تھی بعد میں بالاتروں نے بانی پی ٹی آئی کو ایماندار اور ملک سے مخلص سمجھ کر پوری تو کرا دی تھی مگر بعد میں بانی کی انتقامی سیاست، من مانی اور طویل اقدار کے عشق کو دیکھ کر ساڑھے تین سال بعد وہ پیچھے ہٹے تو بانی نے ان پر جھوٹے الزامات کا ریکارڈ بنایا اور اقتدار میں لانے والے اپنے ہی محسنوں کو بھی نہیں بخشا اور حصول اقتدار کے عشق میں مبتلا ہو کر وہ کچھ کر دکھایا کہ جو آج تک کسی سیاستدان نے نہیں کیا تھا۔ بانی کے عشق اقتدارکی انتہا یہ ہے کہ اپنی آئینی برطرفی کا انہیں صدمہ تھا کہ انھوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ ملک پر ایٹم بم گرا دیا جاتا اس سے بڑی ملک دشمنی کی کوئی مثال نہیں ہوتی۔

بھٹو کے عشق میں بعض جیالوں نے خود کو جلایا تھا مگر بانی کے عشق میں کسی یوتھیے نے تو ایسا نہیں کیا وہ صرف اپنے عشق میں بانی کو صرف ووٹ ہی دے سکتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ سیاسی کارکن اپنے اپنے رہنما سے عشق کرتے ہیں اور اپنے رہنما کی اگر وہ اپنی آنکھوں سے برائی دیکھ لیں وہ تب بھی اس پر یقین نہیں کرتے اور اپنے رہنما ہی کو درست سمجھتے ہیں۔ عشق صرف اپنے ملک سے ہونا چاہیے کیونکہ ملک ہے تو سیاست بھی رہے گی ۔ رہنما چلے جاتے ہیں نیا رہنما آ جاتا ہے مگر ملک و قوم سے مخلص رہنما برائے نام رہ گئے ہیں باقی سب اپنے مفاد سے ہی مخلص ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو کے عشق میں اپنے بانی وزیر اعلی نہیں کیا رہے ہیں ہیں اور کیا تھا بانی کے تھا کہ ہے مگر عشق کا

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک