عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی نے کتنے مواقع ضائع کیے؟ مشاہد حسین نے اندر کی بات بتادی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان کی رہائی کے اہم مواقع خود گنوا دیے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق 5 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا جن کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ 22 نومبر 2024 کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی عمل میں آئے گی،ان کے بقول سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی اس ڈیل کا حصہ تھے۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر موجود ہاکس نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں 10 لاکھ افراد کے پہنچنے کے بعد عمران خان کو بغیر کسی ڈیل کے رہا کرا لیا جائے گا جس کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل مئی 2022 میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عام انتخابات کرانے پر آمادہ ہو چکے تھے لیکن پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے معاملہ خراب کر دیا تھا جس کے بعد الیکشن 8 فروری 2024 میں ہوئے۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
مشاہد حسین سید کے مطابق پی ٹی آئی کی ان حکمتِ عملی کی غلطیوں کے باعث پارٹی کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا اور دو بڑے مواقع ہاتھ سے نکل گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مشاہد حسین پی ٹی آئی
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔