قومی ویمن کرکٹر عمائمہ سہیل رشتہ ازدواج میں منسلک
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی عمائمہ سہیل شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔پاکستانی ویمن انٹرنیشنل کرکٹر اور آل راؤنڈر عمائمہ سہیل کی شادی کی تقریب کراچی میں نہایت سادہ مگر پُروقار انداز میں منعقد ہوئی، اس موقع پر اہلِ خانہ، قریبی رشتہ داروں اور دوست احباب نے شرکت کی۔تقریب میں عمائمہ سہیل اور ان کے شریکِ حیات محمد غوث کیلئے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا گیا۔شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں شائقین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ عمائمہ سہیل پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی نمایاں کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں اور مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ان کی شادی کے پرُ مسرت موقع پر کرکٹ کے حلقوں اور مداحوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عمائمہ سہیل
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی