حکومت کی یو اے ای سے 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کرنے کی باضابطہ درخواست
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 3 ارب ڈالر کے قرض کی میچورٹی سے قبل رول اوور کے لیے باضابطہ درخواست دے دی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خط کے ذریعے یو اے ای قیادت سے درخواست کی ہے کہ 3 ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کیا جائے۔ اس میں 2 ارب ڈالر کی میچورٹی رواں ماہ اور 1 ارب ڈالر کی میچورٹی جولائی میں ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ قرض 2021 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرایا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے تمام تینوں اقساط کو میچورٹی سے قبل رول اوور کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور توقع ہے کہ یہ بروقت عمل میں آجائیں گی۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو قرض پروگرام کے دورانیے تک یو اے ای سے رول اوور کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، رواں مالی سال یو اے ای، سعودی عرب اور چین سے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے قرض رول اوور کئے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارب ڈالر رول اوور یو اے ای
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔