پولیٹیکو نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روڈریگز امریکہ کی کسی بھی ممکنہ حکمتِ عملی کا مرکزی کردار بن چکی ہے۔ اگرچہ وہ مادورو کی پرانی اتحادی رہی ہے، لیکن ٹرمپ کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر عمل کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی، کیوبن اور دیگر مخالف ممالک کے عناصر کو ملک سے نکالے۔ امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق امریکہ نے وینزویلا کے خلاف مزید فوجی حملوں کی دھمکی برقرار رکھتے ہوئے اس ملک سے کچھ اور مطالبات بھی کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ڈیلسی سے کہا ہے کہ وہ کم از کم تین کام ضرور کرے، نمبر ایک منشیات کی ترسیل کو روکنا، نمبر دو ایرانی، کیوبن اور امریکہ مخالف ممالک یا نیٹ ورکس کے افراد کو نکالنا اور چوتھا یہ کہ امریکہ کے دشمن ممالک کو تیل بیچنا بند کریں۔

پولیٹیکو کے مطابق ٹرمپ حکومت وینزویلا کی عبوری رہنما سے چاہتی ہے کہ اگر وہ نیکولس مادورو جیسا انجام نہیں چاہتی تو امریکہ کی حمایت میں کچھ اقدامات کرے، وہی اقدامات جن سے مادورو انکار کرتا رہا تھا۔ اس ویب سائٹ کو دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی حکام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ روڈریگز آخرکار آزاد انتخابات کے انعقاد میں مدد کرے گی اور پھر اقتدار چھوڑ دے گی۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی انتخابات قریب نہیں ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کل ٹرمپ نے کاراکاس پر واشنگٹن کے حملے اور وینزویلا کے صدر کے اغوا کے حوالے سے کہا تھا کہ وینزویلا کی عبوری صدر امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

امریکی صدر نے اتوار کے روز صحافیوں سے کہا کہ وینزویلا اب تک بہت اچھا رہا ہے، لیکن ہمارے جیسی طاقت کا ساتھ فائدہ مند ہے۔ اگر انہوں نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو ہم دوسرا حملہ کریں گے۔ پولیٹیکو نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روڈریگز امریکہ کی کسی بھی ممکنہ حکمتِ عملی کا مرکزی کردار بن چکی ہے۔ اگرچہ وہ مادورو کی پرانی اتحادی رہی ہے، لیکن ٹرمپ کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر عمل کرے گی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اسے بڑی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی امریکی میڈیا کے مطابق روڈریگز نے چند دنوں کے اندر، گرفتاری کی ابتدائی مذمت سے اپنا مؤقف بدل لیا اور کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون پر مبنی ایجنڈے کے تحت کام کرے گی۔

ایک باخبر امریکی ذریعے نے پولیٹیکو کو بتایا کہ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وینزویلا میں قید امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے۔ پولیٹیکو نے مزید لکھا فی الحال ٹرمپ کی ٹیم سمجھتی ہے کہ مادورو کے بعد کا زیادہ تر کام باہر سے ہی انجام دیا جائے گا، اگرچہ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے کہا کہ وہ کاراکاس میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے امریکی فوج کے ذریعے اغوا ہونیوالے صدر نے امریکی عدالت میں بیان دیا ہے کہ وہ اب بھی وینزویلاکے صدر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وینزویلا کی عبوری کہ وینزویلا کے مطابق ہے کہ وہ ٹرمپ کی کرے گی سے کہا

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل