ایران سمیت مخالف ممالک کے عناصر کو ملک سے نکالیں، ٹرمپ کا وینزویلا کی عبوری حکومت سے مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پولیٹیکو نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روڈریگز امریکہ کی کسی بھی ممکنہ حکمتِ عملی کا مرکزی کردار بن چکی ہے۔ اگرچہ وہ مادورو کی پرانی اتحادی رہی ہے، لیکن ٹرمپ کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر عمل کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی، کیوبن اور دیگر مخالف ممالک کے عناصر کو ملک سے نکالے۔ امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق امریکہ نے وینزویلا کے خلاف مزید فوجی حملوں کی دھمکی برقرار رکھتے ہوئے اس ملک سے کچھ اور مطالبات بھی کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ڈیلسی سے کہا ہے کہ وہ کم از کم تین کام ضرور کرے، نمبر ایک منشیات کی ترسیل کو روکنا، نمبر دو ایرانی، کیوبن اور امریکہ مخالف ممالک یا نیٹ ورکس کے افراد کو نکالنا اور چوتھا یہ کہ امریکہ کے دشمن ممالک کو تیل بیچنا بند کریں۔
پولیٹیکو کے مطابق ٹرمپ حکومت وینزویلا کی عبوری رہنما سے چاہتی ہے کہ اگر وہ نیکولس مادورو جیسا انجام نہیں چاہتی تو امریکہ کی حمایت میں کچھ اقدامات کرے، وہی اقدامات جن سے مادورو انکار کرتا رہا تھا۔ اس ویب سائٹ کو دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی حکام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ روڈریگز آخرکار آزاد انتخابات کے انعقاد میں مدد کرے گی اور پھر اقتدار چھوڑ دے گی۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی انتخابات قریب نہیں ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کل ٹرمپ نے کاراکاس پر واشنگٹن کے حملے اور وینزویلا کے صدر کے اغوا کے حوالے سے کہا تھا کہ وینزویلا کی عبوری صدر امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
امریکی صدر نے اتوار کے روز صحافیوں سے کہا کہ وینزویلا اب تک بہت اچھا رہا ہے، لیکن ہمارے جیسی طاقت کا ساتھ فائدہ مند ہے۔ اگر انہوں نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو ہم دوسرا حملہ کریں گے۔ پولیٹیکو نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روڈریگز امریکہ کی کسی بھی ممکنہ حکمتِ عملی کا مرکزی کردار بن چکی ہے۔ اگرچہ وہ مادورو کی پرانی اتحادی رہی ہے، لیکن ٹرمپ کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر عمل کرے گی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اسے بڑی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی امریکی میڈیا کے مطابق روڈریگز نے چند دنوں کے اندر، گرفتاری کی ابتدائی مذمت سے اپنا مؤقف بدل لیا اور کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون پر مبنی ایجنڈے کے تحت کام کرے گی۔
ایک باخبر امریکی ذریعے نے پولیٹیکو کو بتایا کہ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وینزویلا میں قید امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے۔ پولیٹیکو نے مزید لکھا فی الحال ٹرمپ کی ٹیم سمجھتی ہے کہ مادورو کے بعد کا زیادہ تر کام باہر سے ہی انجام دیا جائے گا، اگرچہ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے کہا کہ وہ کاراکاس میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے امریکی فوج کے ذریعے اغوا ہونیوالے صدر نے امریکی عدالت میں بیان دیا ہے کہ وہ اب بھی وینزویلاکے صدر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کی عبوری کہ وینزویلا کے مطابق ہے کہ وہ ٹرمپ کی کرے گی سے کہا
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ