اسلام آباد(خصوصی رپورٹر ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 72 شوگر ملوں کو جرمانے کے معاملے میں مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا کہ ٹربیونل کیس سن کر 90 روز میں فیصلہ کرے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیے، کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ۔مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے عدالت سے استدعا کی کہ آرڈر میں کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کردیتے ہیں۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔مسابقتی کمشن میں 4 ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کو سنا، جس کے نتیجے میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر 2 ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر تھا، اس لیے مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار دیا گیا۔درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں معاملہ دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جہاں چیف جسٹس سمیت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس شکیل احمد نے کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔عدالت عظمی نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مسابقتی کمیشن سپریم کورٹ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ