سپر ٹیکس کیسز: ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے کل تک کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت ٹیکس پیئرز کے نمائندہ وکلا اور معزز ججز کے درمیان تفصیلی دلائل اور مکالمہ ہوا۔
ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4 سی بالکل واضح ہے اور ہدف سے کم آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ادارے 10 فیصد سپر ٹیکس ادا نہیں کر رہے جبکہ ٹیکسٹائل ملز صرف 4 فیصد ٹیکس دے رہی ہیں۔
وکیل ایف بی آر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس حوالے سے واضح وجوہات درج نہیں کیں، جبکہ سیکشن 4 سی کی غیر موجودگی میں بھی ماضی میں ٹیکس عائد رہے ہیں جو آج تک تبدیل نہیں ہوئے۔
سماعت کے دوران مخدوم علی خان، فروغ نسیم اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر زبانی دلائل کے ساتھ تحریری جواب بھی جمع کروائے گا، جس کے بعد ٹیکس پیئرز کی جانب سے تحریری جواب داخل کیا جائے گا۔
چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ اب تک لگنے والا وقت ضائع سمجھا جائے۔ اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اس کی ذمہ داری سرکار پر عائد ہوتی ہے، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ الزام کسی پر نہیں لگانا چاہیے۔
مخدوم علی خان کے استفسار پر چیف جسٹس نے بتایا کہ ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے کل تک کا وقت دیا گیا ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ کل ایف بی آر کا جواب پڑھ کر دلائل دیں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس ارشد حسین شاہ نے مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو ساری ججمنٹ زبانی یاد ہونی چاہیے، جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ججوں کو فیصلے زیادہ یاد ہونے چاہییں۔
چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہمارا پیشہ اب پہلے جیسا نہیں رہا، جبکہ مخدوم علی خان نے کہا کہ یہاں بھی کچھ چیزیں غلط ہو رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں آنے والا ہر شخص بار سے ہی آتا ہے۔
مخدوم علی خان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہوتے، جبکہ آئینی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ پر بائنڈنگ ہوتے ہیں، اور سوال یہ ہے کہ ماضی کے فیصلوں کو کس تناظر میں دیکھا جائے گا۔
ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپر ٹیکس کیسز میں ہائی کورٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس ایک اضافی ٹیکس ہے اور آمدن بڑھنے پر ہی ٹیکس چارج ہوتا ہے، جس کے لیے شیڈول بنایا گیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ان سے استفسار کیا کہ آپ پہلے عاصمہ حامد کے دلائل اپنا چکے ہیں، اب نئے نکات کیسے پیش کر رہے ہیں، جس پر حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ وہ انہی دلائل کی روشنی میں ایک دو نکات پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔
حافظ احسان کھوکھر نے مزید کہا کہ ٹیکس کیسز کی نوعیت سول یا سیاسی کیسز سے مختلف ہوتی ہے اور اگرچہ ہائیکورٹس فیصلے دے سکتی ہیں، مگر وہ قانون کی تشریح نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد اور حافظ احسان کھوکھر کے دلائل مکمل ہو گئے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بھی عاصمہ حامد کے دلائل اپنائے، ٹیکس پیئرز کے وکیل مخدوم علی خان کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایف بی آر چیف جسٹس امین الدین حافظ احسان کھوکھر سپر ٹیکس سلمان اکرم راجہ عامر رحمان فروغ نسیم مخدوم علی خان وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایف بی ا ر چیف جسٹس امین الدین حافظ احسان کھوکھر سپر ٹیکس سلمان اکرم راجہ مخدوم علی خان وفاقی ا ئینی عدالت چیف جسٹس امین الدین حافظ احسان کھوکھر مخدوم علی خان نے تحریری جواب ٹیکس کیسز ایف بی آر نے کہا کہ سپر ٹیکس کہ سپر کے لیے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔