سپر ٹیکس کی مد میں 114 ارب روپے جمع ہوئے‘ مخدوم علی خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جہاں مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان پہلی بار وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپر ٹیکس کیسز کی ابتدائی سماعت کی، جس کے بعد وقفہ کیا گیا۔ سماعت کے دوران مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کے ذریعے 2015 میں ابتدائی ہدف 80 بلین روپے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سپر ٹیکس کی مد میں 2015 سے 2022 تک مجموعی طور پر 114 بلین روپے جمع ہوئے جب کہ اسی مدت کے دوران سپر ٹیکس کے تحت اکٹھے ہونے والی رقم میں سے 3 بلین روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ بینکنگ سیکٹر کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ وقفے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی، جہاں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی پر ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے جواب الجواب مکمل کیے۔ عدالت نے بتایا کہ سیکشن فور سی پر دلائل کا آغاز کل سے کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد اور شاہنواز میمن نے اپنے دلائل پیش کیے۔ سماعت کے اختتام پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر طلب کیا گیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ عامر رحمان صاحب آپ کچھ ایڈ کرنا چاہیں گے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ تمام وکلا دلائل مکمل کر لیں تو وہ اپنی گزارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیڈریشن کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی جب کہ ایف بی آر کے وکلا کل سیکشن فور سی پر اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مخدوم علی خان سپر ٹیکس کی کیا گیا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔