لیویز فورس کو قانونی طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق دیرینہ انتظامی ابہام باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے، لیویز فورس کو قانونی طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں 142 سال پرانی لیویز فورس کیوں ختم کی گئی؟
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں اے اور بی ایریا کیٹیگری کی تقسیم ختم کرتے ہوئے لیویز فورس کو قانونی طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا ہے۔
الحمدللہ، بلوچستان میں یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے، A اور B ایریا کیٹیگری کی تقسیم ختم کر دی گئی ہے اور لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں باقاعدہ قانونی طور پر ضم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری واضح اور عوام کے…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) January 6, 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس فیصلے کو ریاستی رٹ کے استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری واضح ہو گئی ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لیویز فورس کا پولیس میں انضمام: بلوچستان ہائیکورٹ کا سخت نوٹس، اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کے نوٹس جاری
ان کا کہنا ہے کہ یکساں نظام کے نفاذ سے سیکیورٹی، پالیسنگ اور عوامی اعتماد میں بہتری آئے گی جبکہ انتظامی خلا کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بلوچستان بلوچستان فورس سرفراز بگٹی لیویز فورس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان فورس سرفراز بگٹی لیویز فورس بلوچستان پولیس میں لیویز فورس کو سرفراز بگٹی گیا ہے
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔