Islam Times:
2026-06-03@02:52:57 GMT

کیا ہونے والا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

کیا ہونے والا ہے؟

اسلام ٹائمز: ہم اس حدیث کو بھی کئی بار سن چکے ہیں کہ خراسان کی جانب سے ایسے جھنڈے برآمد ہوں گے، جو بالآخر بیت المقدس پر نصب ہوں گے۔ اس بار اگر امریکہ اور اسرائیل کے جانب سے ایران کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی گئی تو پھر اس کے مقابلے میں ایران کی جانب سے جس قسم کے ردعمل کا امکان ہے، اگر ہم ابھی سے مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں کوئی اندازہ قائم کرنا چاہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار لے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ گویا آخرکار ایک سرمست ہاتھی نے خود کو ان ابابیلوں کے نشانے پر رکھ لیا ہے، جو اپنی منقار میں اس کی موت کا سامان لیے انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں۔ اس انتظار کے علاوہ ایک وہ انتظار ہے، جو تمام عالم انسانیت کر رہا ہے اور یہ انتظار ایسا انتظار ہے، جسے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ منجئ بشریت کا ظہور ہوگا اور وہ اسلام حقیقی کے دشمنوں سے بھرپور انتقام لیں گے۔ لیکن ایک انتقام ان کے انتقام سے پہلے بھی ہے، جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ اس ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں اس انتقام سخت کی خبر دی گئی ہے۔

"تفسیر نورالثقلین" میں امام صادق علیہ السلام کا ایک قول نقل کیا گیا ہے، جس کے مطابق امام صادق نے آیت "بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید" (الاسرا) یعنی "ان پر شدید جنگ والے بندے بھیجے" کی تفسیر میں فرمایا کہ "ان  لوگوں سے مراد ایسی قوم ہے، جسے خدا حضرت قائم علیہ السلام  کے خروج سے پہلے اٹھائے گا۔ وہ کسی بھی اسلام دشمن کو نہیں چھوڑیں گے، مگر یہ کہ اسے قتل کریں گے۔" آپ سے پوچھا گیا کہ مولا! ان لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں۔؟ آپ (ع) نے اس کے جواب میں تین مرتبہ فرمایا کہ خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں، خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں، خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں۔(بحارالانوار، ج 60، ص: 216)۔ قم کے حوالے سے ہی امام صادق علیہ السلام سے منسوب ایک اور روایت میں کہا گیا ہے کہ "قم کی جانب جو میلی نظر سے دیکھے گا، خدا اسے پانی میں نمک کی صورت گھول کر رکھ دے گا۔"

ان دو روایت کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے بھی خدا کے دشمنوں سے ایک بڑی جنگ ہوگی، جس کی قیادت "اہل قم" کریں گے۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اس حدیث میں اہل ایران کی جگہ اہل قم کا ذکر کیا گیا۔ "اہل" کسی کی فکر سے مطابقت رکھنے والے کو بھی کہا جاتا ہے۔ مثلا "اہل اسلام" جو اسلام کے نظریئے کو ماننے والے ہیں۔ اہل قم سے مراد بھی وہ لوگ ہیں، جو قم سے جنم لینے والی فکر سے وابستہ ہیں۔ آج جو محور مقاومت میدان عمل میں ہے، اس کی فکر کا محور بھی معصومہء قم کا حرم اور قم میں قائم وہ علمی مرکز ہے، جس کے دامن سے پھوٹنے والی ہدایات کی شعائیں تمام اقصائے عالم کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں۔ آج ہم اپنی فضاٶں میں جنگ کے جو گہرے بادل دیکھ رہے ہیں، وہ بادل اپنے دوش پر وہ پیغام بھی لیے ہوٸے ہیں، جو ہمیں امام  معصوم کی مذکورہ بالا حدیث سے ملتا ہے۔

چیزیں کتنی تیز رفتاری سے بدل رہی ہیں۔ ہم نے یہ تو معصومین (ع) کی زبان مبارک سے سن رکھا تھا کہ امام زمانہ (عج) کے ظہور سے قبل گردشِ زمانہ اس تیزی سے پلٹا کھائے گی، جس سے امام زمانہ کا ظہور نزدیک تر ہو جائے گا اور جس کا ہونا ہم سالوں دور سمجھتے ہوں گے، وہ دن بھر کی دوری کی مسافت تک رہ جائے گا۔ ہم نے یہ حدیث مبارکہ بھی سن رکھی تھی کہ "تباہی ہے عربوں کے اس شر کی وجہ سے جو قریب ہے۔" ہم عرب حکمرانوں کی خیانتوں کا عرصے سے مشاہدہ کر رہے تھے اور دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ایک جانب غزہ کے معصوم بچے زمین پر خاک و خون میں غلطاں ہیں اور دوسری طرف آسمان کو چھوتی "برج خلیفہ" کی بلندیوں سے اس بیداد گری کا نظارہ  کیا جا رہا ہے اور شیخانِ عرب "طاغوت زمانہ" کے استقبال کے لیے اس کے راستے میں اپنے دیدہ و دل بچھانے کے ساتھ  ساتھ اپنی بیٹیوں کی کھلی ذلفیں لہرانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔

لیکن! ان حکمرانوں کو آخرکار مکافاتِ عمل کا سامنا کرنا ہی تھا۔ کل تک جو یمن کے مظلوموں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو باہم مل کر رنگین کر رہے تھے، آج وہ خود  اپنے انہی ہاتھوں سے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہیں۔ ہم اس حدیث کو بھی کئی بار سن چکے ہیں کہ خراسان کی جانب سے ایسے جھنڈے برآمد ہوں گے، جو بالآخر بیت المقدس پر نصب ہوں گے۔ اس بار اگر امریکہ اور اسرائیل کے جانب سے ایران کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی گئی تو پھر اس کے مقابلے میں ایران کی جانب سے جس قسم کے ردعمل کا امکان ہے، اگر ہم ابھی سے مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں کوئی اندازہ قائم کرنا چاہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار لے۔ "واللہ خیرالماکرین

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علیہ السلام کی جانب سے ہوں گے اہل قم

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان