اسلام ٹائمز: ہم اس حدیث کو بھی کئی بار سن چکے ہیں کہ خراسان کی جانب سے ایسے جھنڈے برآمد ہوں گے، جو بالآخر بیت المقدس پر نصب ہوں گے۔ اس بار اگر امریکہ اور اسرائیل کے جانب سے ایران کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی گئی تو پھر اس کے مقابلے میں ایران کی جانب سے جس قسم کے ردعمل کا امکان ہے، اگر ہم ابھی سے مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں کوئی اندازہ قائم کرنا چاہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار لے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ گویا آخرکار ایک سرمست ہاتھی نے خود کو ان ابابیلوں کے نشانے پر رکھ لیا ہے، جو اپنی منقار میں اس کی موت کا سامان لیے انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں۔ اس انتظار کے علاوہ ایک وہ انتظار ہے، جو تمام عالم انسانیت کر رہا ہے اور یہ انتظار ایسا انتظار ہے، جسے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ منجئ بشریت کا ظہور ہوگا اور وہ اسلام حقیقی کے دشمنوں سے بھرپور انتقام لیں گے۔ لیکن ایک انتقام ان کے انتقام سے پہلے بھی ہے، جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ اس ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں اس انتقام سخت کی خبر دی گئی ہے۔
"تفسیر نورالثقلین" میں امام صادق علیہ السلام کا ایک قول نقل کیا گیا ہے، جس کے مطابق امام صادق نے آیت "بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید" (الاسرا) یعنی "ان پر شدید جنگ والے بندے بھیجے" کی تفسیر میں فرمایا کہ "ان لوگوں سے مراد ایسی قوم ہے، جسے خدا حضرت قائم علیہ السلام کے خروج سے پہلے اٹھائے گا۔ وہ کسی بھی اسلام دشمن کو نہیں چھوڑیں گے، مگر یہ کہ اسے قتل کریں گے۔" آپ سے پوچھا گیا کہ مولا! ان لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں۔؟ آپ (ع) نے اس کے جواب میں تین مرتبہ فرمایا کہ خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں، خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں، خدا کی قسم! وہ اہل قم ہیں۔(بحارالانوار، ج 60، ص: 216)۔ قم کے حوالے سے ہی امام صادق علیہ السلام سے منسوب ایک اور روایت میں کہا گیا ہے کہ "قم کی جانب جو میلی نظر سے دیکھے گا، خدا اسے پانی میں نمک کی صورت گھول کر رکھ دے گا۔"
ان دو روایت کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے بھی خدا کے دشمنوں سے ایک بڑی جنگ ہوگی، جس کی قیادت "اہل قم" کریں گے۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اس حدیث میں اہل ایران کی جگہ اہل قم کا ذکر کیا گیا۔ "اہل" کسی کی فکر سے مطابقت رکھنے والے کو بھی کہا جاتا ہے۔ مثلا "اہل اسلام" جو اسلام کے نظریئے کو ماننے والے ہیں۔ اہل قم سے مراد بھی وہ لوگ ہیں، جو قم سے جنم لینے والی فکر سے وابستہ ہیں۔ آج جو محور مقاومت میدان عمل میں ہے، اس کی فکر کا محور بھی معصومہء قم کا حرم اور قم میں قائم وہ علمی مرکز ہے، جس کے دامن سے پھوٹنے والی ہدایات کی شعائیں تمام اقصائے عالم کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں۔ آج ہم اپنی فضاٶں میں جنگ کے جو گہرے بادل دیکھ رہے ہیں، وہ بادل اپنے دوش پر وہ پیغام بھی لیے ہوٸے ہیں، جو ہمیں امام معصوم کی مذکورہ بالا حدیث سے ملتا ہے۔
چیزیں کتنی تیز رفتاری سے بدل رہی ہیں۔ ہم نے یہ تو معصومین (ع) کی زبان مبارک سے سن رکھا تھا کہ امام زمانہ (عج) کے ظہور سے قبل گردشِ زمانہ اس تیزی سے پلٹا کھائے گی، جس سے امام زمانہ کا ظہور نزدیک تر ہو جائے گا اور جس کا ہونا ہم سالوں دور سمجھتے ہوں گے، وہ دن بھر کی دوری کی مسافت تک رہ جائے گا۔ ہم نے یہ حدیث مبارکہ بھی سن رکھی تھی کہ "تباہی ہے عربوں کے اس شر کی وجہ سے جو قریب ہے۔" ہم عرب حکمرانوں کی خیانتوں کا عرصے سے مشاہدہ کر رہے تھے اور دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ایک جانب غزہ کے معصوم بچے زمین پر خاک و خون میں غلطاں ہیں اور دوسری طرف آسمان کو چھوتی "برج خلیفہ" کی بلندیوں سے اس بیداد گری کا نظارہ کیا جا رہا ہے اور شیخانِ عرب "طاغوت زمانہ" کے استقبال کے لیے اس کے راستے میں اپنے دیدہ و دل بچھانے کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کی کھلی ذلفیں لہرانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔
لیکن! ان حکمرانوں کو آخرکار مکافاتِ عمل کا سامنا کرنا ہی تھا۔ کل تک جو یمن کے مظلوموں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو باہم مل کر رنگین کر رہے تھے، آج وہ خود اپنے انہی ہاتھوں سے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہیں۔ ہم اس حدیث کو بھی کئی بار سن چکے ہیں کہ خراسان کی جانب سے ایسے جھنڈے برآمد ہوں گے، جو بالآخر بیت المقدس پر نصب ہوں گے۔ اس بار اگر امریکہ اور اسرائیل کے جانب سے ایران کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی گئی تو پھر اس کے مقابلے میں ایران کی جانب سے جس قسم کے ردعمل کا امکان ہے، اگر ہم ابھی سے مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں کوئی اندازہ قائم کرنا چاہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار لے۔ "واللہ خیرالماکرین"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علیہ السلام کی جانب سے ہوں گے اہل قم
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :