اپنے بیان میں علامہ علی حسنین نے آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق جھوٹی افواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اچھا مقام رکھنے والے اداروں کیجانب سے افواہیں پھیلانا قابل افسوس اور شرمناک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رہنماء علامہ علی حسنین حسینی نے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا بغیر کسی تحقیق کے مغربی میڈیا کے منفی بیانیے کی پیروی کرنا قابل افسوس اور صحافتی اقدار کے متضاد ہے۔ بعض عناصر نے غیر ذمہ دارانہ طور پر خبریں نشر کیں۔ صحافیوں کو افواہوں کو خبر بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے مختلف چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انقلاب اسلامی کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق جھوٹی افواہوں کی اشاعت اور نشر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اچھا مقام رکھنے والے اداروں کی جانب سے افواہیں پھیلانا قابل افسوس اور شرمناک ہے۔ پاکستانی میڈیا میں پروفیشنل صحافیوں کی موجودگی میں ایسا رویہ قابل تعجب ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مغربی میڈیا ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔ انکا مقصد امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنا ہے، تاہم یہ بات قابل حیرت ہے کہ ہماری میڈیا اور پروفیشنل صحافی اس ایجنڈے کو سمجھے بغیر مغربی میڈیا کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت فلسطین کے دفاع میں صف اول میں کھڑے ہیں اور اسرائیل کو براہ راست آنکھ دکھا کر مغرب کا مقابلہ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مغربی میڈیا کبھی بھی انہیں ایک اچھی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی جرات نہیں کر سکتی ہے، مگر پاکستانی میڈیا کو کیا ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرے۔ آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق اس قسم کی جھوٹی افواہوں نے پوری امت کا دل دکھایا ہے۔ تاہم ہم توقع کرتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کے صحافی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قسم کی افواہیں پھیلانے سے گریز کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای پاکستانی میڈیا مغربی میڈیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی