26 نومبر احتجاج، علیمہ خانم کی بریت درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں ملوث سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی بریت کی درخواست خارج کر دی ہے۔ درخواست گزارنے اپنے کونسل فیصل ملک کے ذریعے درخوات دائر کی، سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی عدالت میں موجود تھے،پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی 5 مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔ میڈیا کا اس مقدمے سے کسی طرح کوئی تعلق نہیں بنتا جب یہ خود مان رہے ہیں ہم نے احتجاج کیا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے کہنے پر باہر آئے لیکن عدالت کے سامنے نہیں مان رہے، پراسیکیوٹر نے عدالت کو علیمہ خانم کی میڈیا سے گفتگو کے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ درخواست گزار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ احتجاج کا این او سی ہو یا نہ ہو ہم نہیں مانیں گے تو پھر یہ کیسا پرامن احتجاج تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170 زخمی ہوئے۔ اس مقدمے میں 18 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں اور اس مرحلے پر بریت کی درخواست کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ26 نومبر احتجاج میں علیمہ خانم کا قصور یہ ہے کہ اس نے بھائی سے جیل میں ملاقات کی اور سابق چیئرمین کا پیغام پارٹی اور عوام تک پہنچایا، ملزمہ کے وکیل کا موقف تھا کہ مقدمہ میں بتایا گیا کہ علیمہ خانم نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کا پیغام دیا تو پھر کسی صحافی یا میڈیا چینل کو اس مقدمہ میں گواہ یا نامزد نہیں کیا گیا۔ قانون میں ایسا نہیں لکھا کہ پیغام دینے والا ملزم ہو جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن6 میں درج شقیں ملزمہ کے جرم کو ثابت نہیں کرتیں، اس تناظر میں یہ کیس بنتا ہی نہیں یہ کیس محض سیاسی انتقامی کارروائی ہے، عدالت نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد علیمہ خانم کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔