اسلام آباد(نیوزڈیسک) طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستانی قوم کے باپ قائداعظم ہیں، قائداعظم کےقوم اور خطےپر احسانات ہیں، بھارت میں موجود مسلمان مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں، بھارت میں کرسمس پر گرجا گھروں پر حملے کیے گئے۔

طارق فضل چوہدری کا کہناتھا کہ سیاسی جماعتیں ذمہ داریاں ادانہیں کریں گی توقوتیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، ہم نے مارشل لا دیکھے،ان کی تعریف نہیں کرسکتا، اسٹیبلشمنٹ نے کبھی سیاسی جماعتوں کو تعلیم،صحت کا نظام ٹھیک کرنے سے روکاہے؟ آپس کی لڑائیوں کی وجہ سےہم عوام کو بنیادی سہولیات نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اچھا کام ہورہا ہےتوباقی صوبوں کو چاہیے اس کو فالو کریں، پاکستان کو معرکہ حق کے بعد دنیا میں نئی شناخت ملی ہے، دنیا کو پتا لگا ہے پاکستان کی فوج مضبوط ہے، امریکا تسلیم کر رہا ہےوہ 8 ارب ڈالر کا اسلحہ افغانستان چھوڑ کر آیا، افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے، وزیراعلیٰ کےپی فوجی جوانوں کے جنازے میں شرکت نہیں کرتے۔

اس موقع پر ہمایوں مہمند نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی،تمام رہنماؤں کو شہدا کے گھروں میں جانا چاہیے، پچھلے دنوں جو بھی واقعات ہوئے وزیراعلیٰ ان کے گھروں میں گئے، افغان کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے، کےپی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی، تمام جماعتوں نے کہا ہم آپریشن کیخلاف نہیں لیکن بتایا جائے کس طرح ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے