چین کی جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر پابندی، ٹوکیو کا سخت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایشیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جاپان نے دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر چین کی جانب سے پابندی کو ’بالکل ناقابلِ قبول اور نہایت افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
دوہری استعمال کی اشیا سے مراد وہ سامان، سافٹ ویئر یا ٹیکنالوجیز ہیں جو شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے قریب جاپانی میزائل یونٹ کی تنصیب پر چین کو شدید ردعمل، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
ان اشیا میں بعض نایاب زمینی عناصر بھی شامل ہیں جو ڈرونز اور چپس بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
یہ تنازع گزشتہ سال کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب جاپان کی وزیرِ اعظم سانیے تاکائیچی نے کہا کہ جمہوری طرزِ حکومت والے تائیوان پر چین کا کوئی بھی حملہ جاپان کے لیے وجودی خطرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
????China has banned the export of ALL dual-use technology and material to Japan over Taiwan remarks.
Over 1000 export items from China is identified as dual-use technology (both military and civilian use), covering at least 7 categories of medium and heavy rare earth minerals. pic.twitter.com/Axa3wqzCJZ
— Zhao DaShuai 东北进修???????? (@zhao_dashuai) January 6, 2026
چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، تاہم تائیوان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
بیجنگ نے تاکائیچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیان سے دستبردار ہوں، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: چین نے جاپان سے آبی مصنوعات کی درآمد روک دی
اس کے نتیجے میں جوابی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں تازہ ترین اقدام منگل کے روز فوجی استعمال کی دوہری اشیا کی برآمدات پر پابندی ہے۔
جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری اور حکومت کے مرکزی ترجمان، مینورُو کیہارا نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس نوعیت کا چینی اقدام بین الاقوامی طریقۂ کار سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
انہوں نے جاپانی صنعت پر ممکنہ اثرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کن اشیا کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ’یہ بالکل ناقابلِ قبول اور نہایت افسوسناک ہے۔‘
مزید پڑھیں:چین جزیرہ تائیوان پر روس کے تعاون سے حملہ ہوگا، امریکی میڈیا
بدھ کے روز جاپان کا نِکی شیئر انڈیکس تقریباً ایک فیصد گر گیا، جب کہ عالمی سطح پر امریکی اور یورپی منڈیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
بڑی دفاعی کمپنیوں، کاواساکی ہیوی اور مٹسوبشی ہیوی کے شیئرز تقریباً 3 فیصد تک گرنے والوں میں شامل تھے۔
کیا نایاب زمینی عناصر مزید پابندیوں کی زد پر آئیں گے؟چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ ملکیت اخبار چائنا ڈیلی نے منگل کو رپورٹ کیا کہ بیجنگ جاپان کو نایاب زمینی عناصر کی برآمدات کے لائسنس کے جائزے کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کے جاپان کی طاقتور مینوفیکچرنگ صنعت، خاص طور پر آٹوموٹو سیکٹر، پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ جاپان نے 2010 میں چین کی جانب سے پابندیوں کے بعد نایاب زمینی عناصر کی سپلائی متنوع بنانے کی کوشش کی، تاہم اب بھی اس کی تقریباً 60 فیصد درآمدات چین سے آتی ہیں۔
China tightens export controls of dual use items to Japan. Heavy Rare Earths are quite likely (pending confirmation) included since they remain one of the strongest points of leverage China has over Japan.
As always, good to follow JOGMEC moves. Bullish for $NMI.V, $BRE.AX and… pic.twitter.com/4KGJVVmuoB
— Piotr Turek (@rekurencja) January 6, 2026
نومورا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرِ معاشیات تاکاہیدے کیوچی کے مطابق، اگر چین 3 ماہ کے لیے نایاب زمینی عناصر کی برآمدات محدود کر دے تو جاپانی کاروبار کو تقریباً 4.21 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا
ان کے مطابق اس پابندی کے باعث سالانہ جی ڈی پی میں 0.11 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، ایک سالہ پابندی جی ڈی پی میں 0.43 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
ابھی تک چینی کسٹمز کے اعداد و شمار میں جاپان کو نایاب زمینی عناصر کی برآمدات میں کمی کے کوئی آثار نہیں ملے۔ نومبر میں، جو دستیاب تازہ ترین مہینہ ہے، برآمدات 35 فیصد بڑھ کر 305 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی بلند ترین سطح ہے۔
طویل کشیدگی کے خدشاتنومبر کے اوائل میں تائیوان سے متعلق بیان کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو جاپان کے سفر سے روک دیا، جاپانی سمندری غذا کی درآمدات معطل کر دیں اور متعدد ملاقاتیں اور ثقافتی تقریبات منسوخ کر دیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی جنگ میں عارضی مفاہمت اور آئندہ اپریل میں بیجنگ کے دورے کا ارادہ رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاکائیچی سے تنازع مزید نہ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
مزید پڑھیں: جنوبی کوریا اور جاپان نے روس و چین کی مشترکہ فضائی گشت کے جواب میں لڑاکا طیارے روانہ کیے
تاہم، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس تنازع نے تاکائیچی کی ملکی مقبولیت کو متاثر نہیں کیا۔
ماہرین اس کشیدگی کا موازنہ 2012 کے اس تنازع سے کر رہے ہیں جب جاپان نے متنازع جزائر کو قومی تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد چین میں جاپان مخالف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور دونوں ممالک کے رہنما ڈھائی سال تک نہیں ملے تھے۔
ایتوچو کارپوریشن کے صدر کیتا ایشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ معاملہ کافی عرصے تک چلتا رہے گا۔ ’صدر شی جن پنگ کچھ ناراض دکھائی دیتے ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹوموٹو سیکٹر بیجنگ تاکائیچی جاپان جاپانی صنعت چپس چین دوہرے استعمال ڈرونز سافٹ ویئر سپلائی شیئر صنعت فوجی استعمال کاواساکی ماہر معاشیات مینوفیکچرنگ نایاب زمینی عناصر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تاکائیچی جاپان جاپانی صنعت چپس چین دوہرے استعمال سافٹ ویئر سپلائی فوجی استعمال ماہر معاشیات مینوفیکچرنگ نایاب زمینی عناصر نایاب زمینی عناصر کی مزید پڑھیں استعمال کی کی برآمدات جاپان نے چین کی کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔