لاہور:(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین اور موزوں وقت آچکا ہے اور حکومت صوبے کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کی جدت کو اپنانے کی جانب لے کر جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے داماک گروپ کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے داماک گروپ کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

داماک گروپ کے وفد کی قیادت شریک مینجنگ ڈائریکٹرز عامرہ حسین سجوانی اور علی حسین سجوانی کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ داماک گروپ کے وفد نے پروقار خیرمقدم پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں حکومتی اور تجارتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا اور مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کیا گیا۔ نواز شریف آئی ٹی سٹی میں تجارتی اثاثوں کی پائلٹ ٹوکنائزیشن کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ داماک گروپ نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب کو ڈیجیٹل اثاثہ جات اور نئی ٹیکنالوجی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کا گیٹ وے بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب آئی ٹی برآمدات میں 65 فیصد حصے کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی ہے اور صوبے میں ہر سال 25 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس افرادی قوت میں شامل ہو رہے ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ ابھرتے ہوئے متحرک ٹیکنالوجی ہب ہیں جبکہ پنجاب نوجوانوں کے لیے وسیع تر مواقع کی سرزمین ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کو سی بی ڈی قائد ماسٹر پلان، سائرس ٹاور، فائیو اسٹار ہاسپیٹلٹی ٹاور، ہائپر ریٹیل مال اور دیگر منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پنجاب میں سرمایہ کاری سرمایہ کاری کے داماک گروپ نواز شریف مریم نواز ا ئی ٹی کے لیے

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر