گزشتہ مالی سال کے دوران 10 کروڑ سے زائد موبائل ڈیوائسز بلاک کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مختلف وجوہات کی بنیاد پر مجموعی طور پر 10 کروڑ سے زائد موبائل ڈیوائسز بلاک کیے گئے۔
پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ بلاک کی جانے والی موبائل ڈیوائسز سے متعلق تفصیلات کے مطابق 10 کروڑ سے زائد موبائل ڈیوائسز کو مختلف وجوہات کی بنا پر بلاک کیا گیا ہے اور 8 لاکھ 68 ہزار گمشدہ یا چوری شدہ موبائل فونز کو بلاک کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 7 کروڑ 20 لاکھ جعلی یا ریپلیکا موبائل ڈیوائسز کو موبائل نیٹ ورک سے ہٹا دیا گیا، دو کروڑ 70 لاکھ ایسی ڈیوائسز بھی بلاک کی گئیں جن میں ڈپلیکیٹ یا کلون آئی ایم ای آئی نمبرز استعمال ہو رہے تھے۔
پی ٹی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سال 2019 سے اب تک موبائل ڈیوائس رجسٹریشن کے ذریعے حکومت کو مجموعی طور پر 83 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو حاصل ہوا ہے۔
مزید بتایا گای کہ ملک میں استعمال ہونے والے 68 فیصد اسمارٹ فونز مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں جس کے لیے اتھارٹی کی جانب سے اب تک 36 موبائل مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
پی ٹی اے نے کہنا کہ غیر قانونی، جعلی اور غیر معیاری موبائل ڈیوائسز کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ اور نیٹ ورک کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل موبائل ڈیوائسز پی ٹی اے بلاک کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔