شعبان کا چاند کب نظر آئے گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد : محکمہ موسمیات کی شعبان کے چاند کے حوالے سے بڑی پیش گوئی سامنے آگئی . جس کے تحت چاند 20 جنوری کو نظر آنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم شعبان 1447 ہجری بدھ 21 جنوری 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شعبان کا چاند 19 جنوری 2026 کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا، تاہم اس روز شام کے وقت چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔محکمے نے مزید کہا کہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 17 سے 18 گھنٹے ہوگی، جبکہ چاند نظر آنے کے لیے کم از کم 19 گھنٹے کی عمر ضروری سمجھی جاتی ہے۔کراچی میں غروبِ آفتاب کے بعد چاند تقریباً 32 سے 33 منٹ تک افق پر موجود رہے گا، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں چاند کا قیام 30 سے 31 منٹ ہوگا۔ صاف یا جزوی ابر آلود موسم کے باوجود چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ 29 رجب کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی شعبان کے آغاز سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
خیال رہے مسلمان ہر سال 14 اور 15 شعبان کی درمیانی شب کو شبِ برات عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ اس رات کو مغفرت اور بخشش کی رات کہا جاتا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات چاند نظر آنے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔