آئی ایس او کراچی کا پری بورڈ امتحانات کیلئے شہر بھر میں 22 مراکز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پری بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری تعلیم آئی ایس او کراچی نے کہا کہ کراچی میں منعقد ہونے والے ہیں پری بورڈ امتحانات کو ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس کی ریجسٹریشن کا آغاز 16 دسمبر سے کیا جا چکا ہے، طلباء و طالبات بذریعہ آن لائن لنک ریجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کی جانب سے طلبہ کے لیے پری بورڈ امتحانات کا انعقاد کیا جارہا ہے، اس اقدام کا مقصد طلبہ کو بورڈ کے امتحانات سے پہلے امتحانی ماحول فراہم کرنا اور ذہنی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا امتحانی ماحول فراہم کرنا ہے جو مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری پر مبنی ہو۔ ان خیالات کا اظہار آئی ایس او کراچی کے سیکرٹری تعلیم محمد حنین نے پری بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ کراچی میں منعقد ہونے والے ہیں پری بورڈ امتحانات کو ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس کی ریجسٹریشن کا آغاز 16 دسمبر سے کیا جا چکا ہے۔
محمد حنین نے بتایا کہ طلباء و طالبات بذریعہ آن لائن لنک ریجسٹریشن کرواسکتے ہیں اور اس سلسلے میں 22 امتحانی مراکز مختلف علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں مستند اور تربیت یافتہ نگران (Invigilators) کی نگرانی میں امتحانات لیے جائیں گے تاکہ امتحانی عمل کو صاف، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جا سکے، آئی ایس او کے نمائندگان طلباء میں اگاہی کے لیے مختلف اسکولز اور کالجز کا دورہ کر رہے، امتحانات دینے والوں طلباء کی تعداد 5,000 کے قریب متوقع ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ یہ تعلیمی اقدام پاکستان میں معیاری تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کے بہتر تعلیمی مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو طلبہ کو اعتماد، شفافیت اور میرٹ پر مبنی کامیابی کی راہ پر گامزن کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پری بورڈ امتحانات آئی ایس او
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔