بنگلادیش نے بھارت میں ورلڈکپ کھیلنے سے متعلق اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اور ملکی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ متبادل وینیو کے طور پر سری لنکا میں میچز کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، آئی سی سی کی جانب سے میچر سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر آئی سی سی کو خط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نہیں گئے تو بنگلہ دیش کے پوائنٹس ضائع؟ آئی سی سی کی دھمکی منافقت قرار

ڈھاکا میں بی سی بی صدر امین الاسلام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلادیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نذرل نے کہا کہ بنگلادیش ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرچکا ہے اور کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے، تاہم کسی بھی صورت میں کھلاڑیوں کی سلامتی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کو مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا جائے گا اور امید ہے کہ عالمی ادارہ غیرجانبداری کے ساتھ بنگلادیش کے تحفظات کو سنے گا۔

ڈاکٹر آصف نذرل نے کہا کہ آئی سی سی کی جانب سے بھیجے گئے خط میں بھارت میں بنگلادیشی کھلاڑیوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں کھیل کے لیے ماحول مکمل طور پر محفوظ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ بنگلادیش آج رات یا کل تک آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھے گا اور اس میں واضح کیا جائے گا کہ موجودہ حالات میں بھارت بنگلادیشی کھلاڑیوں کے لیے محفوظ وینیو نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش نے ورلڈکپ کے لیے سخت محنت کی ہے اور امید ہے کہ آئی سی سی کوئی قابلِ قبول حل نکالے گا۔

اس موقع پر بی سی بی صدر امین الاسلام نے کہا کہ کسی بھی غیرملکی دورے کے لیے حکومتی اجازت ضروری ہوتی ہے، اس لیے بنگلادیش کرکٹ بورڈ حکومت کے فیصلے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو بنگلادیش اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا بھی میزبان ممالک میں شامل ہے اور وہاں میچز کھیلنے کی خواہش بالکل جائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: بنگلا دیش کی بھارت سے میچز منتقل کرنے کی درخواست مسترد، بھارتی میڈیا

بی سی بی صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی سی سی نے سری لنکا میں میچز کرانے کو ناممکن قرار دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چیمپئنز ٹرافی کے دوران بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے ہی حالات پیدا ہوئے تھے، جس کا حل نکالا گیا، اس لیے موجودہ معاملے میں بھی مناسب حل کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ورلڈکپ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن سیکیورٹی کے معاملے پر بنگلادیش اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آئی سی سی بنگلہ دیش بھارت خط سری لنکا کرکٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت سری لنکا کرکٹ کہ آئی سی سی ئی سی سی کو بنگلہ دیش بھارت میں نے کہا کہ سری لنکا انہوں نے کا کہنا یہ بھی دیش کے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم