برطانیہ اور یورپ بھر میں شدید برفباری کے بعد سینکڑوں پروازیں، ٹرینیں منسوخ؛ نظام زندگی مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپ اور برطانیہ میں ہونے والی شدید برف باری کے بعد سینکڑوں پروازیں اور ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، سردی کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔
عالمی میڈیا رپوٹس کے مطابق یورپ میں شدید برفباری اور سرد موسم کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، شدید برفباری کی صورتحال کے پیش نظڑ برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک میں سینکڑوں پروازیں اور ٹرینوں کا شیڈول منسوخ کیا گیا، پیرس اور ایمسٹرڈیم کے ہوائی اڈوں پر بھی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔
اسکاٹ لینڈ، انگلینڈ اور ویلز میں بھی سفری رکاوٹیں ہونے کے باعث وارننگ جاری کی گئی ہے، لیورپول کے جان لینن ہوائی اڈے سے پروازیں بک کروانے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فلائٹ کا شیڈول دوبارہ چیک کرلیں۔
شدید برف کی وجہ سے اس ہفتے کئی ایئرپورٹس پر حفاظتی اور آپریشنل مسائل پیدا ہوئے ہیں، اسی وجہ سے مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفری اپ ڈیٹس سے آگاہ رہیں۔
ایبرڈین ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے مسافروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پرواز کا ‘اسٹیٹس چیک کریں’ اور ہوائی اڈے کی طرف جاتے وقت اضافی احتیاط برتیں۔
یورپی میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کے حوالے سے بھی خبریں آئی ہیں، سردی کی وجہ سے فرانس کے دو الگ الگ علاقوں میں 5 افراد کی موت رپورٹ ہوئی، بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو میں بھی ایک خاتون ہلاکت سامنے آئی ہے۔
ایمسٹرڈیم شیفول ایئرپورٹ پر 700 سے زائد پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر یورپ کے سفرکےلیے پرواز کرنے والی تھیں۔
اس کے علاوہ بھی مزید پروازوں کے منسوخ ہونے کی توقع ہے، ایئرپورٹ اتھارٹی نے ایئرلائنز کو آج سروس میں 70 فیصد کمی کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کی شام 1,000 سے زیادہ لوگوں نے ہوائی اڈے پر رات گزاری، جس سے لوگوں کو شیدی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان میں برطانیہ کے سیکڑوں مسافر بھی شامل ہیں۔
برٹش ایئرویز نے لندن ہیتھرو اور ایمسٹرڈیم کے درمیان 10 پروازوں کے ساتھ ساتھ لندن سٹی سے راؤنڈ ٹرپ سروس بھی منسوخ کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔