ایران میں مظاہرے جاری،صدر کا فورسز کو مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-4
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دیدیا۔ بدھ کو ایرانی صدر نے سیکورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کریں۔ ایرانی صدر نے سیکورٹی فورسز کو پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسندوں کے درمیان واضح فرق کرنے کی ہدایت دی۔کابینہ اجلاس کے بعد جاری کی گئی ایک وڈیو میں نائب صدر محمد جعفر نے بھی بتایا کہ صدر پزشکیان نے مظاہرین کیخلاف کسی بھی قسم کے سیکورٹی اقدامات نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اسلحہ، چاقو اور چھریاں لے کر پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں، وہ شرپسند ہیں اور ہمیں مظاہرین اور شرپسندوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ تہران میں ایرانی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ ایرانی آرمی چیف، جنرل امیر حاتمی نے خبردارکیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل نے بھی ملک کے خلاف جاری سازشوں پر سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ مخاصمت آمیز اقدامات جاری رہے تو دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘ ایران کی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل دسویں روز بھی جاری رہے۔مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور ایران کے مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن کے دوران تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
ایران
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔