data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراکس /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) کیوبا اور وینزویلا نے گزشتہ ہفتے ہونے والی امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک ہونیوالے اپنے فوجی اہلکاروں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے مجموعی طور پر55 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کیوبا کی حکومت نے 32 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کیے ہیں، جو کراکس میں ہونے والی امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔ جاری کردہ فہرست کے مطابق ان میں 21 اہلکار وزارت داخلہ سے تعلق رکھتے تھے، جن میں 3 سینئر افسران شامل تھے، جبکہ باقی اہلکار انقلابی مسلح افواج کا حصہ تھے۔ دوسری جانب وینزویلا کی فوج نے 23 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ ان میں 5 ایڈمرل، مختلف رینک کے 16 سارجنٹس اور 2 دیگر فوجی شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔ یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں‘ اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوںپرپہنچایاجائیگا۔دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔ انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے‘امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے وینزویلا کے تیل کا اختیار لینے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بدھ کے روز عالمی معیار کا برینٹ کروڈ کی قیمت کم ہو کر 60 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.

4 فیصد کمی دیکھی گئی۔ایک معاہدے کے تحت اب امریکی صدر کو وینزویلا کے اُس تیل کو فروخت کرنے کا اختیار مل جائے گا جو امریکی پابندیوں کے باعث ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں روکا گیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ جمع شدہ تیل کی مجموعی مالیت 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے اگر یہ تیل عالمی منڈی میں آجائے تو قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔ یہ پیش رفت چین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ وینزویلا اپنی تقریباً 80 فیصد تیل برآمدات چین کو کرتا ہے۔ اگر امریکا اس تیل پر کنٹرول حاصل کرتا ہے تو چین کو مہنگے داموں تیل خریدنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے جس سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔ توانائی کنسلٹنسی رسٹاڈ انرجی کے مطابق وینزویلا کی تیل کی صنعت کو ماضی کی سطح تک لانے کے لیے کم از کم 15 سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فوجی اہلکاروں کہ وینزویلا وینزویلا کے وینزویلا کی کے مطابق کے لیے تیل کی

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی