Jasarat News:
2026-07-24@09:23:11 GMT

ابھی تو آزادی کے مزے لو!

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-03-5
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری یا اغوا کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کو بین الاقوامی غنڈہ راج سے کم کسی اصطلاح میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی ملک کے سیاسی حالات کیسے ہوں گے، یہ فیصلہ وہاں کے عوام کا حق اور ذمے داری ہوتا ہے۔ یہ طے کرنا کہ ان کے نمائندے کون ہوں گے، کسی بیرونی طاقت یا غیر منتخب قوت کا اختیار نہیں۔ اس کے باوجود ایک منتخب صدر کو اس طرح اُٹھا کر کسی اور ملک لے جانا، خصوصاً اْن قوتوں کے ہاتھوں جن کا دنیا کے دیگر حصوں میں جمہوریت کے حوالے سے اپنا ریکارڈ داغ دار رہا ہے، امریکا کی جمہوریت کے لیے نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔ یقینا طاقت کے نشے میں چور ریاستیں اور حکمران بہت کچھ کر گزرتے ہیں، مگر اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بظاہر جب طاقت ہاتھ میں ہو تو یہ گمان پیدا ہو جاتا ہے کہ سب کچھ ممکن ہے، اور اردگرد موجود لوگ یا تو دب جاتے ہیں یا بکھر جاتے ہیں۔ وینزویلا کے معاملے میں طاقت کے زعم میں مبتلا انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے: ’’ہم جب چاہیں، جو چاہیں، جس وقت چاہیں، جس کے ساتھ چاہیں، وہ سب کچھ کر سکتے ہیں‘‘۔

اس واقعے کی مختلف توجیہات اور زاویے پیش کیے جا رہے ہیں، اور بظاہر ہر زاویہ اپنی جگہ مکمل محسوس ہوتا ہے۔ سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر اس کی جگہ اب ایک شدید معاشی جنگ نے لے لی ہے، جس کے مرکزی کردار چین اور امریکا ہیں۔ معیشت کی اس جنگ میں مجموعی طور پر ہر محاذ پر چین کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی حکمت ِ عملی نہایت محتاط اور حساب شدہ ہے۔ چین کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں یا دوست ممالک کے لیے براہِ راست طاقت کا استعمال نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ سیاسی و سفارتی سطح پر بیان بازی کرتا ہے، یا پھر مالی وسائل اور اسلحے کی صورت میں مدد فراہم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس وہ روس کی طرح اپنی فوجیں کسی دوسرے ملک میں لڑنے کے لیے نہیں بھیجتا۔ یہ طرزِ عمل ایک لحاظ سے خود چین کے مفاد میں بھی ہے اور عالمی امن کے لیے بھی نسبتاً بہتر سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ جہاں بھی کسی ملک کی خاطر براہِ راست فوجی مداخلت کی گئی ہے، وہاں وہ ملک عموماً شدید خانہ جنگی، تباہی اور طویل عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔

دوسری طرف مڈل ایسٹ میں امریکا کا مہرہ اسرائیل بظاہر عسکری کامیابیوں کے باوجود شدید اخلاقی اور سیاسی ہزیمت سے دوچار ہے۔ تیسری جانب امریکا کے اندر ایپسٹائن فائل جیسے اسکینڈلز نے ہلچل مچا رکھی ہے، جن کے شکار طاقت کے ایوانوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک سبب کو قطعی قرار دینا آسان نہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے وقت میں، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹائن فائل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے دعووں میں ناکامی کے باعث غصے اور الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں، ان کے گرد موجود سخت گیر عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ان کا یہ کہنا کہ ’’مجھے تمام تفصیلات کا علم نہیں‘‘، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ ورنہ پوری پریس کانفرنس ان کے متکبرانہ روئیے کا مظہر تھی یہ تکبر محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری انتظامیہ (نیکون) میں بدرجہا موجود ہے۔ امریکا کی جمہوریت کی ایک خوبی یہ ضرور ہے کہ یہ روئیے مکمل طور پر بے نقاب نہیں ہو پاتے، مگر مختلف مواقع پر ان کا اظہار ہو ہی جاتا ہے، خصوصاً اس احساسِ برتری کی صورت میں جو وہ اپنے شہریوں اور دنیا کے دیگر انسانوں کے درمیان قائم رکھتے ہیں۔

ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ مارکو روبیو، جو خود کیوبن نژاد امریکی ہیں، کیوبا کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ ان کے خاندان نے فیڈل کاسترو کے دور میں کیوبا چھوڑ کر میامی میں پناہ لی، اور آج وینزویلا کے ذریعے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش اسی تاریخی پس منظر سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وینزویلا اور کیوبا کے درمیان قریبی تعلقات ہیں؛ وینزویلا کم قیمت پر کیوبا کو تیل فراہم کرتا ہے، جبکہ کیوبا انسانی وسائل، بالخصوص ڈاکٹروں کی صورت میں وینزویلا کی مدد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر مادورو نے اپنے لوگوں سے زیادہ کیوبن سیکورٹی اہلکاروں پر اعتماد کیا اور ان کے حفاظتی دستوں کی بڑی تعداد کیوبا سے تعلق رکھتی تھی، جنہوں نے واقعی اپنی جانیں دے کر وفاداری کا ثبوت دیا۔

تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب حکمران اپنے عوام کے دلوں پر راج نہ کریں تو قریب ترین لوگ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی قوت محض طاقت کے بل پر ہی نہیں بلکہ غداری کے راستے سے بھی بیڈ روم کے اندر تک پہنچی۔ بظاہر غدار سامنے نہیں آئے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ چہرے بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔ ورنہ یہ ملا عمر جیسے فقیر کو زندگی بھر پکڑ نہ پائے۔ جنرل نوریگا کے بعد جس طرح بین الاقوامی دھونس اور دباؤ کے ذریعے امریکا نے یہ اقدام کیا ہے، وہ کسی مہذب عالمی نظام کے بجائے گاؤں کے چودھریوں کی منطق سے مشابہ ہے: ایک کو عبرت کا نشان بنا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دینا کہ اختیار اور طاقت کا مالک کون ہے۔ اگر دنیا میں فیصلے اصول، قانون یا اخلاقی اقدار کے تحت ہوتے تو اسرائیل سے بڑی ناجائز ریاست اور نیتن یاہو سے بڑا جنگی مجرم شاید کوئی نہ ہوتا۔ مگر اسی جنگی مجرم کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کرنا، اور دوسرے دن

ایک آزاد ملک کے صدر کو اغوا کر لینا، محض طاقت اور غرور مظاہرہ ہے۔ اس کے بعد ایران، کولمبیا اور کیوبا کو کھلی دھمکیاں دینا کسی عالمی قیادت کا رویہ نہیں بلکہ کھلی بین الاقوامی دھونس ہے۔

امریکا کا اندرونی سیاسی ماحول اس حد تک مضبوط بنا دیا گیا ہے کہ وہاں اپنی اندرونی جمہوریت کو براہِ راست چیلنج کرنا آسان نہیں، لیکن اگر یہ روایت قائم ہو گئی کہ بیرونِ ملک لوگوں کو اغوا کر کے فخر سے اعلان کیا جائے گا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور کرتے رہیں گے، تو آہستہ آہستہ یہی روش اندرونِ ملک بھی دہرائی جا سکتی ہے۔

بادشاہت کے خواب دیکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی ملک میں بھی ایسے ہتھکنڈے آزما سکتے ہیں، جن کی وہ ماضی میں کئی بار کوشش کر چکے ہیں، مگر اب تک جمہوری نظام کی مزاحمت کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔ بعض شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی اور کے منتخب نمائندوں کو تمسخر اور بالواسطہ دھمکی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم دو سو سال سے زائد عرصے میں قائم اس نظام کی جڑوں کو اس طرح ہلانا بظاہر آسان نظر نہیں آتا، اگرچہ وقت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔ بعید نہیں کہ کل کسی شہر کے میئر کو بھی اسی طرح اٹھا لیا جائے، اور یہاں کی جمہوریت بھی بتدریج طاقتور حلقوں کے قدموں تلے روندی جاتی رہے۔ اس کا پہلا نشانہ امیگرینٹس اور کمزور طبقات ہوں گے، (جس کا آغاز ہوچکا ہے) پھر سیاہ فام آبادی اور آخر میں سیاسی مخالفین، جن میں لبرل سفید فام شامل ہوسکتے ہیں۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارا انجام بھی وہی ہوگا جو کسی بھی اسلامی ملک میں آزادی سے لکھنے اور سوچنے والے افراد کا ہوتا ہے؛ یعنی یا تو زمین کے اندر، یا میٹروپولیٹن جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔ مگر جب تک یہ نوبت نہیں آتی، ہم لکھنے سے رک نہیں سکتے۔ خاموشی اختیار کرنا نہ ہمارا مزاج ہے اور نہ ہی عادت جب تک ایسا نہیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کے مزے لو۔

معوذ اسعد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکتے ہیں طاقت کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار