ابھی تو آزادی کے مزے لو!
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-03-5
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری یا اغوا کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کو بین الاقوامی غنڈہ راج سے کم کسی اصطلاح میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی ملک کے سیاسی حالات کیسے ہوں گے، یہ فیصلہ وہاں کے عوام کا حق اور ذمے داری ہوتا ہے۔ یہ طے کرنا کہ ان کے نمائندے کون ہوں گے، کسی بیرونی طاقت یا غیر منتخب قوت کا اختیار نہیں۔ اس کے باوجود ایک منتخب صدر کو اس طرح اُٹھا کر کسی اور ملک لے جانا، خصوصاً اْن قوتوں کے ہاتھوں جن کا دنیا کے دیگر حصوں میں جمہوریت کے حوالے سے اپنا ریکارڈ داغ دار رہا ہے، امریکا کی جمہوریت کے لیے نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔ یقینا طاقت کے نشے میں چور ریاستیں اور حکمران بہت کچھ کر گزرتے ہیں، مگر اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بظاہر جب طاقت ہاتھ میں ہو تو یہ گمان پیدا ہو جاتا ہے کہ سب کچھ ممکن ہے، اور اردگرد موجود لوگ یا تو دب جاتے ہیں یا بکھر جاتے ہیں۔ وینزویلا کے معاملے میں طاقت کے زعم میں مبتلا انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے: ’’ہم جب چاہیں، جو چاہیں، جس وقت چاہیں، جس کے ساتھ چاہیں، وہ سب کچھ کر سکتے ہیں‘‘۔
اس واقعے کی مختلف توجیہات اور زاویے پیش کیے جا رہے ہیں، اور بظاہر ہر زاویہ اپنی جگہ مکمل محسوس ہوتا ہے۔ سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر اس کی جگہ اب ایک شدید معاشی جنگ نے لے لی ہے، جس کے مرکزی کردار چین اور امریکا ہیں۔ معیشت کی اس جنگ میں مجموعی طور پر ہر محاذ پر چین کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی حکمت ِ عملی نہایت محتاط اور حساب شدہ ہے۔ چین کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں یا دوست ممالک کے لیے براہِ راست طاقت کا استعمال نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ سیاسی و سفارتی سطح پر بیان بازی کرتا ہے، یا پھر مالی وسائل اور اسلحے کی صورت میں مدد فراہم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس وہ روس کی طرح اپنی فوجیں کسی دوسرے ملک میں لڑنے کے لیے نہیں بھیجتا۔ یہ طرزِ عمل ایک لحاظ سے خود چین کے مفاد میں بھی ہے اور عالمی امن کے لیے بھی نسبتاً بہتر سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ جہاں بھی کسی ملک کی خاطر براہِ راست فوجی مداخلت کی گئی ہے، وہاں وہ ملک عموماً شدید خانہ جنگی، تباہی اور طویل عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔
دوسری طرف مڈل ایسٹ میں امریکا کا مہرہ اسرائیل بظاہر عسکری کامیابیوں کے باوجود شدید اخلاقی اور سیاسی ہزیمت سے دوچار ہے۔ تیسری جانب امریکا کے اندر ایپسٹائن فائل جیسے اسکینڈلز نے ہلچل مچا رکھی ہے، جن کے شکار طاقت کے ایوانوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک سبب کو قطعی قرار دینا آسان نہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے وقت میں، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹائن فائل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے دعووں میں ناکامی کے باعث غصے اور الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں، ان کے گرد موجود سخت گیر عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ان کا یہ کہنا کہ ’’مجھے تمام تفصیلات کا علم نہیں‘‘، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ ورنہ پوری پریس کانفرنس ان کے متکبرانہ روئیے کا مظہر تھی یہ تکبر محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری انتظامیہ (نیکون) میں بدرجہا موجود ہے۔ امریکا کی جمہوریت کی ایک خوبی یہ ضرور ہے کہ یہ روئیے مکمل طور پر بے نقاب نہیں ہو پاتے، مگر مختلف مواقع پر ان کا اظہار ہو ہی جاتا ہے، خصوصاً اس احساسِ برتری کی صورت میں جو وہ اپنے شہریوں اور دنیا کے دیگر انسانوں کے درمیان قائم رکھتے ہیں۔
ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ مارکو روبیو، جو خود کیوبن نژاد امریکی ہیں، کیوبا کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ ان کے خاندان نے فیڈل کاسترو کے دور میں کیوبا چھوڑ کر میامی میں پناہ لی، اور آج وینزویلا کے ذریعے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش اسی تاریخی پس منظر سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وینزویلا اور کیوبا کے درمیان قریبی تعلقات ہیں؛ وینزویلا کم قیمت پر کیوبا کو تیل فراہم کرتا ہے، جبکہ کیوبا انسانی وسائل، بالخصوص ڈاکٹروں کی صورت میں وینزویلا کی مدد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر مادورو نے اپنے لوگوں سے زیادہ کیوبن سیکورٹی اہلکاروں پر اعتماد کیا اور ان کے حفاظتی دستوں کی بڑی تعداد کیوبا سے تعلق رکھتی تھی، جنہوں نے واقعی اپنی جانیں دے کر وفاداری کا ثبوت دیا۔
تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب حکمران اپنے عوام کے دلوں پر راج نہ کریں تو قریب ترین لوگ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی قوت محض طاقت کے بل پر ہی نہیں بلکہ غداری کے راستے سے بھی بیڈ روم کے اندر تک پہنچی۔ بظاہر غدار سامنے نہیں آئے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ چہرے بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔ ورنہ یہ ملا عمر جیسے فقیر کو زندگی بھر پکڑ نہ پائے۔ جنرل نوریگا کے بعد جس طرح بین الاقوامی دھونس اور دباؤ کے ذریعے امریکا نے یہ اقدام کیا ہے، وہ کسی مہذب عالمی نظام کے بجائے گاؤں کے چودھریوں کی منطق سے مشابہ ہے: ایک کو عبرت کا نشان بنا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دینا کہ اختیار اور طاقت کا مالک کون ہے۔ اگر دنیا میں فیصلے اصول، قانون یا اخلاقی اقدار کے تحت ہوتے تو اسرائیل سے بڑی ناجائز ریاست اور نیتن یاہو سے بڑا جنگی مجرم شاید کوئی نہ ہوتا۔ مگر اسی جنگی مجرم کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کرنا، اور دوسرے دن
ایک آزاد ملک کے صدر کو اغوا کر لینا، محض طاقت اور غرور مظاہرہ ہے۔ اس کے بعد ایران، کولمبیا اور کیوبا کو کھلی دھمکیاں دینا کسی عالمی قیادت کا رویہ نہیں بلکہ کھلی بین الاقوامی دھونس ہے۔
امریکا کا اندرونی سیاسی ماحول اس حد تک مضبوط بنا دیا گیا ہے کہ وہاں اپنی اندرونی جمہوریت کو براہِ راست چیلنج کرنا آسان نہیں، لیکن اگر یہ روایت قائم ہو گئی کہ بیرونِ ملک لوگوں کو اغوا کر کے فخر سے اعلان کیا جائے گا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور کرتے رہیں گے، تو آہستہ آہستہ یہی روش اندرونِ ملک بھی دہرائی جا سکتی ہے۔
بادشاہت کے خواب دیکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی ملک میں بھی ایسے ہتھکنڈے آزما سکتے ہیں، جن کی وہ ماضی میں کئی بار کوشش کر چکے ہیں، مگر اب تک جمہوری نظام کی مزاحمت کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔ بعض شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی اور کے منتخب نمائندوں کو تمسخر اور بالواسطہ دھمکی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم دو سو سال سے زائد عرصے میں قائم اس نظام کی جڑوں کو اس طرح ہلانا بظاہر آسان نظر نہیں آتا، اگرچہ وقت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔ بعید نہیں کہ کل کسی شہر کے میئر کو بھی اسی طرح اٹھا لیا جائے، اور یہاں کی جمہوریت بھی بتدریج طاقتور حلقوں کے قدموں تلے روندی جاتی رہے۔ اس کا پہلا نشانہ امیگرینٹس اور کمزور طبقات ہوں گے، (جس کا آغاز ہوچکا ہے) پھر سیاہ فام آبادی اور آخر میں سیاسی مخالفین، جن میں لبرل سفید فام شامل ہوسکتے ہیں۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارا انجام بھی وہی ہوگا جو کسی بھی اسلامی ملک میں آزادی سے لکھنے اور سوچنے والے افراد کا ہوتا ہے؛ یعنی یا تو زمین کے اندر، یا میٹروپولیٹن جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔ مگر جب تک یہ نوبت نہیں آتی، ہم لکھنے سے رک نہیں سکتے۔ خاموشی اختیار کرنا نہ ہمارا مزاج ہے اور نہ ہی عادت جب تک ایسا نہیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کے مزے لو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتے ہیں طاقت کے رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی