ابھی تو آزادی کے مزے لو!
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری یا اغوا کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کو بین الاقوامی غنڈہ راج سے کم کسی اصطلاح میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی ملک کے سیاسی حالات کیسے ہوں گے، یہ فیصلہ وہاں کے عوام کا حق اور ذمے داری ہوتا ہے۔ یہ طے کرنا کہ ان کے نمائندے کون ہوں گے، کسی بیرونی طاقت یا غیر منتخب قوت کا اختیار نہیں۔ اس کے باوجود ایک منتخب صدر کو اس طرح اُٹھا کر کسی اور ملک لے جانا، خصوصاً اْن قوتوں کے ہاتھوں جن کا دنیا کے دیگر حصوں میں جمہوریت کے حوالے سے اپنا ریکارڈ داغ دار رہا ہے، امریکا کی جمہوریت کے لیے نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔ یقینا طاقت کے نشے میں چور ریاستیں اور حکمران بہت کچھ کر گزرتے ہیں، مگر اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بظاہر جب طاقت ہاتھ میں ہو تو یہ گمان پیدا ہو جاتا ہے کہ سب کچھ ممکن ہے، اور اردگرد موجود لوگ یا تو دب جاتے ہیں یا بکھر جاتے ہیں۔ وینزویلا کے معاملے میں طاقت کے زعم میں مبتلا انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے: ’’ہم جب چاہیں، جو چاہیں، جس وقت چاہیں، جس کے ساتھ چاہیں، وہ سب کچھ کر سکتے ہیں‘‘۔
اس واقعے کی مختلف توجیہات اور زاویے پیش کیے جا رہے ہیں، اور بظاہر ہر زاویہ اپنی جگہ مکمل محسوس ہوتا ہے۔ سرد جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر اس کی جگہ اب ایک شدید معاشی جنگ نے لے لی ہے، جس کے مرکزی کردار چین اور امریکا ہیں۔ معیشت کی اس جنگ میں مجموعی طور پر ہر محاذ پر چین کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی حکمت ِ عملی نہایت محتاط اور حساب شدہ ہے۔ چین کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں یا دوست ممالک کے لیے براہِ راست طاقت کا استعمال نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ سیاسی و سفارتی سطح پر بیان بازی کرتا ہے، یا پھر مالی وسائل اور اسلحے کی صورت میں مدد فراہم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس وہ روس کی طرح اپنی فوجیں کسی دوسرے ملک میں لڑنے کے لیے نہیں بھیجتا۔ یہ طرزِ عمل ایک لحاظ سے خود چین کے مفاد میں بھی ہے اور عالمی امن کے لیے بھی نسبتاً بہتر سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ جہاں بھی کسی ملک کی خاطر براہِ راست فوجی مداخلت کی گئی ہے، وہاں وہ ملک عموماً شدید خانہ جنگی، تباہی اور طویل عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔
دوسری طرف مڈل ایسٹ میں امریکا کا مہرہ اسرائیل بظاہر عسکری کامیابیوں کے باوجود شدید اخلاقی اور سیاسی ہزیمت سے دوچار ہے۔ تیسری جانب امریکا کے اندر ایپسٹائن فائل جیسے اسکینڈلز نے ہلچل مچا رکھی ہے، جن کے شکار طاقت کے ایوانوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک سبب کو قطعی قرار دینا آسان نہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے وقت میں، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایپسٹائن فائل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے دعووں میں ناکامی کے باعث غصے اور الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں، ان کے گرد موجود سخت گیر عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ پریس کانفرنسوں میں ان کا یہ کہنا کہ ’’مجھے تمام تفصیلات کا علم نہیں‘‘، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ ورنہ پوری پریس کانفرنس ان کے متکبرانہ روئیے کا مظہر تھی یہ تکبر محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری انتظامیہ (نیکون) میں بدرجہا موجود ہے۔ امریکا کی جمہوریت کی ایک خوبی یہ ضرور ہے کہ یہ روئیے مکمل طور پر بے نقاب نہیں ہو پاتے، مگر مختلف مواقع پر ان کا اظہار ہو ہی جاتا ہے، خصوصاً اس احساسِ برتری کی صورت میں جو وہ اپنے شہریوں اور دنیا کے دیگر انسانوں کے درمیان قائم رکھتے ہیں۔
ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ مارکو روبیو، جو خود کیوبن نژاد امریکی ہیں، کیوبا کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ ان کے خاندان نے فیڈل کاسترو کے دور میں کیوبا چھوڑ کر میامی میں پناہ لی، اور آج وینزویلا کے ذریعے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش اسی تاریخی پس منظر سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وینزویلا اور کیوبا کے درمیان قریبی تعلقات ہیں؛ وینزویلا کم قیمت پر کیوبا کو تیل فراہم کرتا ہے، جبکہ کیوبا انسانی وسائل، بالخصوص ڈاکٹروں کی صورت میں وینزویلا کی مدد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر مادورو نے اپنے لوگوں سے زیادہ کیوبن سیکورٹی اہلکاروں پر اعتماد کیا اور ان کے حفاظتی دستوں کی بڑی تعداد کیوبا سے تعلق رکھتی تھی، جنہوں نے واقعی اپنی جانیں دے کر وفاداری کا ثبوت دیا۔
تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب حکمران اپنے عوام کے دلوں پر راج نہ کریں تو قریب ترین لوگ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی قوت محض طاقت کے بل پر ہی نہیں بلکہ غداری کے راستے سے بھی بیڈ روم کے اندر تک پہنچی۔ بظاہر غدار سامنے نہیں آئے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ چہرے بھی بے نقاب ہو جائیں گے۔ ورنہ یہ ملا عمر جیسے فقیر کو زندگی بھر پکڑ نہ پائے۔ جنرل نوریگا کے بعد جس طرح بین الاقوامی دھونس اور دباؤ کے ذریعے امریکا نے یہ اقدام کیا ہے، وہ کسی مہذب عالمی نظام کے بجائے گاؤں کے چودھریوں کی منطق سے مشابہ ہے: ایک کو عبرت کا نشان بنا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دینا کہ اختیار اور طاقت کا مالک کون ہے۔ اگر دنیا میں فیصلے اصول، قانون یا اخلاقی اقدار کے تحت ہوتے تو اسرائیل سے بڑی ناجائز ریاست اور نیتن یاہو سے بڑا جنگی مجرم شاید کوئی نہ ہوتا۔ مگر اسی جنگی مجرم کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کرنا، اور دوسرے دن
ایک آزاد ملک کے صدر کو اغوا کر لینا، محض طاقت اور غرور مظاہرہ ہے۔ اس کے بعد ایران، کولمبیا اور کیوبا کو کھلی دھمکیاں دینا کسی عالمی قیادت کا رویہ نہیں بلکہ کھلی بین الاقوامی دھونس ہے۔
امریکا کا اندرونی سیاسی ماحول اس حد تک مضبوط بنا دیا گیا ہے کہ وہاں اپنی اندرونی جمہوریت کو براہِ راست چیلنج کرنا آسان نہیں، لیکن اگر یہ روایت قائم ہو گئی کہ بیرونِ ملک لوگوں کو اغوا کر کے فخر سے اعلان کیا جائے گا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور کرتے رہیں گے، تو آہستہ آہستہ یہی روش اندرونِ ملک بھی دہرائی جا سکتی ہے۔
بادشاہت کے خواب دیکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی ملک میں بھی ایسے ہتھکنڈے آزما سکتے ہیں، جن کی وہ ماضی میں کئی بار کوشش کر چکے ہیں، مگر اب تک جمہوری نظام کی مزاحمت کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔ بعض شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی اور کے منتخب نمائندوں کو تمسخر اور بالواسطہ دھمکی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم دو سو سال سے زائد عرصے میں قائم اس نظام کی جڑوں کو اس طرح ہلانا بظاہر آسان نظر نہیں آتا، اگرچہ وقت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔ بعید نہیں کہ کل کسی شہر کے میئر کو بھی اسی طرح اٹھا لیا جائے، اور یہاں کی جمہوریت بھی بتدریج طاقتور حلقوں کے قدموں تلے روندی جاتی رہے۔ اس کا پہلا نشانہ امیگرینٹس اور کمزور طبقات ہوں گے، (جس کا آغاز ہوچکا ہے) پھر سیاہ فام آبادی اور آخر میں سیاسی مخالفین، جن میں لبرل سفید فام شامل ہوسکتے ہیں۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہمارا انجام بھی وہی ہوگا جو کسی بھی اسلامی ملک میں آزادی سے لکھنے اور سوچنے والے افراد کا ہوتا ہے؛ یعنی یا تو زمین کے اندر، یا میٹروپولیٹن جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔ مگر جب تک یہ نوبت نہیں آتی، ہم لکھنے سے رک نہیں سکتے۔ خاموشی اختیار کرنا نہ ہمارا مزاج ہے اور نہ ہی عادت جب تک ایسا نہیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کے مزے لو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتے ہیں طاقت کے رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔