خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اختیارات صرف عمران خان کے پاس ہیں، اور جن کی خواہش ہے اور جن کے پاس اختیارات ہیں وہ اڈیالہ میں قیدی نمبر 804 سے مذاکرات کرلیں۔

مینا خان نے پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں موجودہ سیاسی صورتحال، لاہور دورہ، کراچی پلان سمیت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات کی۔

’پی ٹی آئی میں سب کچھ عمران خان ہیں، مذاکرات ان کی اجازت سے ہی ہوں گے‘

مینا خان نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف میں اختیارات عمران خان کے پاس ہیں اور مذاکرات بھی انہی کی اجازت سے ہی ممکن ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا ہے، لاہور دورے کے بعد اب کراچی کا دورہ کیا جائے گا۔

’پی ٹی آئی جب بھی احتجاج کی تیاری شروع کرتی ہے تو انہیں مذاکرات کی یاد آتی ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہے۔‘

انہوں نے کہا مذاکرات کی باتیں کرنے والے پہلے دیکھیں کہ ان کے پاس کیا اختیارات ہیں، اور اگر ہیں تو اڈیالہ میں قیدی نمبر 804 سے کرلیں۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی، دروازے کھلے ہیں، لیکن مذاکرات کرنے والے خود کو تو دیکھیں کہ ان کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔

’صوبے میں آپریشنز کا متبادل دیکھنا ہے‘

مینا خان نے کہاکہ صوبائی حکومت اب کسی قسم کے آپریشنز کی اجازت نہیں دے گی، کیوں کہ آپریشنز کسی مسئلے کا حل نہیں۔

’آپ جائیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں سے بات کریں، انہیں اعتماد میں لیں، بند کمروں کے فیصلے ہمیں منظور نہیں۔‘

’سختی اور کارروائیوں کے باوجود لاہور دورہ انتہائی کامیاب رہا‘

مینا خان نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور دورہ انتہائی کامیاب رہا، اور پنجاب حکومت کی جانب سے سختیوں اور کارروائیوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ نکلے اور جگہ جگہ استقبال کیا گیا۔

’ہم اسٹریٹ موومنٹ کے لیے گئے تھے، لوگ نکلے، اب پنجاب حکومت کارکنان کے خلاف ایف آئی آرز درج کررہی ہے۔‘

انہوں نے کہا پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان نکلے اور پیغام دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔

’کراچی، حیدرآباد جائیں گے، اور مزار قائد پر جلسہ ہوگا‘

مینا خان نے بتایا کہ 9 جنوری کو سہیل آفریدی کراچی پہنچیں گے، جہاں وہ پارٹی کارکنان اور قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ اسٹریٹ مہم کے تحت گلی گلی جا کر لوگوں سے ملیں گے۔

انہوں نے کہا سہیل آفریدی کراچی کے علاوہ حیدرآباد بھی جائیں گے اور 3 روز سندھ میں گزاریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اتوار کو مزار قائد پر جلسہ ہوگا جس کی اجازت کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا

انہوں نے مزید کہاکہ ابھی تک سندھ حکومت نے کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، جبکہ اگر کراچی میں آباد پختونوں کے مسائل سامنے آئے تو سہیل آفریدی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی ہدایت پر ہی سہیل آفریدی نے مہم شروع کی ہے، جبکہ مستقبل میں احتجاج یا تحریک چلانے کا فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر ہی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی مذاکرات سینیئر وزیر عمران خان مینا خان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سیاسی مذاکرات وی نیوز اختیارات ہیں انہوں نے کہا سہیل آفریدی کی اجازت نے کہاکہ کے پاس کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان