مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، جن کے پاس اختیارات ہیں قیدی نمبر 804 سے کرلیں، سینیئر وزیر کے پی مینا خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اختیارات صرف عمران خان کے پاس ہیں، اور جن کی خواہش ہے اور جن کے پاس اختیارات ہیں وہ اڈیالہ میں قیدی نمبر 804 سے مذاکرات کرلیں۔
مینا خان نے پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں موجودہ سیاسی صورتحال، لاہور دورہ، کراچی پلان سمیت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات کی۔
’پی ٹی آئی میں سب کچھ عمران خان ہیں، مذاکرات ان کی اجازت سے ہی ہوں گے‘مینا خان نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف میں اختیارات عمران خان کے پاس ہیں اور مذاکرات بھی انہی کی اجازت سے ہی ممکن ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے عمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا ہے، لاہور دورے کے بعد اب کراچی کا دورہ کیا جائے گا۔
’پی ٹی آئی جب بھی احتجاج کی تیاری شروع کرتی ہے تو انہیں مذاکرات کی یاد آتی ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہے۔‘
انہوں نے کہا مذاکرات کی باتیں کرنے والے پہلے دیکھیں کہ ان کے پاس کیا اختیارات ہیں، اور اگر ہیں تو اڈیالہ میں قیدی نمبر 804 سے کرلیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی، دروازے کھلے ہیں، لیکن مذاکرات کرنے والے خود کو تو دیکھیں کہ ان کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔
’صوبے میں آپریشنز کا متبادل دیکھنا ہے‘مینا خان نے کہاکہ صوبائی حکومت اب کسی قسم کے آپریشنز کی اجازت نہیں دے گی، کیوں کہ آپریشنز کسی مسئلے کا حل نہیں۔
’آپ جائیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں سے بات کریں، انہیں اعتماد میں لیں، بند کمروں کے فیصلے ہمیں منظور نہیں۔‘
’سختی اور کارروائیوں کے باوجود لاہور دورہ انتہائی کامیاب رہا‘مینا خان نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور دورہ انتہائی کامیاب رہا، اور پنجاب حکومت کی جانب سے سختیوں اور کارروائیوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ نکلے اور جگہ جگہ استقبال کیا گیا۔
’ہم اسٹریٹ موومنٹ کے لیے گئے تھے، لوگ نکلے، اب پنجاب حکومت کارکنان کے خلاف ایف آئی آرز درج کررہی ہے۔‘
انہوں نے کہا پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان نکلے اور پیغام دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔
’کراچی، حیدرآباد جائیں گے، اور مزار قائد پر جلسہ ہوگا‘مینا خان نے بتایا کہ 9 جنوری کو سہیل آفریدی کراچی پہنچیں گے، جہاں وہ پارٹی کارکنان اور قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ اسٹریٹ مہم کے تحت گلی گلی جا کر لوگوں سے ملیں گے۔
انہوں نے کہا سہیل آفریدی کراچی کے علاوہ حیدرآباد بھی جائیں گے اور 3 روز سندھ میں گزاریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اتوار کو مزار قائد پر جلسہ ہوگا جس کی اجازت کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
انہوں نے مزید کہاکہ ابھی تک سندھ حکومت نے کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، جبکہ اگر کراچی میں آباد پختونوں کے مسائل سامنے آئے تو سہیل آفریدی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی ہدایت پر ہی سہیل آفریدی نے مہم شروع کی ہے، جبکہ مستقبل میں احتجاج یا تحریک چلانے کا فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر ہی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی مذاکرات سینیئر وزیر عمران خان مینا خان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سیاسی مذاکرات وی نیوز اختیارات ہیں انہوں نے کہا سہیل آفریدی کی اجازت نے کہاکہ کے پاس کے لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ