سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس دینِ اسلام کے محافظ ہیں  قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں، انہیں کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا  کہ مولانا اشرف علی کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، اس لیے ہم مدارس تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے، مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ مدارس سیاست انبیا کی وراثت ہے اور ہم اس مسند کے حق دار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایمان کی

پڑھیں:

ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی

اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان