مقبوضہ کشمیر، ضلع کٹھوعہ میں تلاشی آپریشن جاری، 22 نوجوان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے پرتشدد کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو شہید کر دیا جبکہ ایک بھارتی فوجی بھی ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کیطرف سے ضلع کٹھوعہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور اسپیشل آپریشنز گروپ نے بدھ کو ضلع کٹھوعہ میں بلاور کے علاقوں کہوگ اور دھنو پیرول کماد میں آپریشن شروع کیا تھا اور یہ آ ج بھی جاری ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے پرتشدد کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو شہید کر دیا جبکہ ایک بھارتی فوجی بھی ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ دریں اثنا، ہندوستانی فوج، بارڈر سکیورٹی فورس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار سانبہ، راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں مسلسل تلاشی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ان علاقوں میں تلاشی آپریشن 26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے سلسلے میں کیے جانے والے نام نہاد حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں شروع کیا گیا ہے۔ یوم جمہوریہ سے پہلے بی ایس ایف، سرحدی پولیس اور ولیج ڈیفنس گارڈز پر مشتمل ایک کثیر سطحی سکیورٹی گرڈ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس دوران، کانٹر انٹیلی جنس اہلکاروں نے نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 22 نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ان سے پوچھ گچھ کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔