یو اے ای میں قانونی بلوغت کی عمر 18سال قرار، نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی فیصلے کرسکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو مالی اور قانونی معاملات میں مزید خودمختاری حاصل ہو گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق قانونی بلوغت کی عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل 21 سال تھی۔
حکام کے مطابق اب 18 سال کے افراد کسی سرپرست یا ولی کی اجازت کے بغیر اہم مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔ اس میں معاہدوں پر دستخط، قرض حاصل کرنا، بینکنگ معاملات نمٹانا اور جائیداد کی خرید و فروخت جیسے امور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کروانے اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ 15 سال کی عمر کے افراد عدالتی اجازت کے بعد اپنے مالی اثاثوں کا انتظام خود سنبھال سکتے ہیں۔ اماراتی حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ان کی سماجی اور معاشی شمولیت بڑھانا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔