یو اے ای میں قانونی بلوغت کی عمر 18سال قرار، نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی فیصلے کرسکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو مالی اور قانونی معاملات میں مزید خودمختاری حاصل ہو گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق قانونی بلوغت کی عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل 21 سال تھی۔
حکام کے مطابق اب 18 سال کے افراد کسی سرپرست یا ولی کی اجازت کے بغیر اہم مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔ اس میں معاہدوں پر دستخط، قرض حاصل کرنا، بینکنگ معاملات نمٹانا اور جائیداد کی خرید و فروخت جیسے امور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کروانے اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ 15 سال کی عمر کے افراد عدالتی اجازت کے بعد اپنے مالی اثاثوں کا انتظام خود سنبھال سکتے ہیں۔ اماراتی حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ان کی سماجی اور معاشی شمولیت بڑھانا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔