امریکا میں امیگریشن افسر نے بچے کی ماں کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
منیاپولس: امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون ڈرائیور کے ہلاک ہونے کی دل دہلادینے والی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
واقعہ بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب شہر میں امیگریشن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران ایک گاڑی کو روکا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ دفاع میں کی گئی، تاہم منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اس کارروائی کو غیر ضروری اور لاپرواہی قرار دیتے ہوئے امیگریشن حکام کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کو شہر کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی محلے میں سر میں گولی ماری گئی۔ واقعے کے وقت خاتون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی موقع پر موجود تھا۔
متوفیہ کی شناخت رینی نِکول میکلن گُڈ کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک بچے کی ماں تھیں اور سوشل میڈیا پر خود کو شاعرہ اور مصنفہ کے طور پر متعارف کراتی تھیں۔
عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک امیگریشن اہلکار گاڑی کے قریب جاتا ہے اور اسی دوران ایک اور اہلکار فائرنگ کر دیتا ہے۔
فائرنگ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
When you slow the Minneapolis video down and zoom in, you can clearly see that the ICE Agent was NOT in front of the vehicle when he shoots.
He was not “rammed.”
Both his feet are off to the side.
He drew his gun as she backed up and shot her as she drove past him.
It’s MURDER pic.twitter.com/v6bWPjNpBv — JΛKΣ (@USMCLiberal) January 7, 2026
شام کے وقت مظاہرین نے شمعیں روشن کر کے دعائیہ اجتماع کیا اور امیگریشن کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
صورتحال کے پیش نظر منیسوٹا کے گورنر ٹم والٹز نے نیشنل گارڈ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کا ذمہ دار امیگریشن کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے مظاہرین کو قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔