علی ترین عین وقت پر پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی نیلامی سے دستبردار ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کی نیلامی میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر دیا۔پی ایس ایل کی2 نئی ٹیموں کی نیلامی آج اسلام آباد میں ہوگی۔ نیلامی کا عمل جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہو گا۔2 کامیاب پارٹیاں راولپنڈی، حیدر آباد، فیصل آباد، گلگت، مظفرآباد اور سیالکوٹ میں سے ٹیموں کے نام منتخب کر سکیں گے۔تاہم نیلامی سے کچھ وقت پہلے علی ترین نے پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کی نیلامی میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر دیا۔علی ترین نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'غور و فکر کے بعد، میں نے اور میرے خاندان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم آج ہونے والی پی ایس ایل فرنچائز نیلامی میں حصہ نہیں لیں گے۔علی ترین نے کہا کہ ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا وقت صرف ایک کرکٹ ٹیم کی ملکیت تک محدود نہیں تھا۔ یہ جنوبی پنجاب کے لیے تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگر میں دوبارہ پی ایس ایل میں آیا تو وہ بھی اسی مقصد کے لیے ہوگا۔ جنوبی پنجاب میرے دل کے قریب ہے، یہی میرا گھر ہے۔ علی ترین نے کہا کہ اس سال میں اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کے لیے تالیاں بجاتے ہوئے اور شائقین کے ساتھ خوشیاں مناتے ہوئے موجود ہوں گا اور جب ملتان کی ٹیم فروخت کے لیے آئے گی، ہم تیار ہوں گے۔واضح رہے کہ علی ترین کے دستبردار ہونے کے بعد اب بولی میں 9 پارٹیاں شریک ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نئی ٹیموں کی نیلامی پی ایس ایل کی علی ترین نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔