معاشی اصلاحات سے مالیاتی نظام میں بہتری آ رہی ہے، سینیٹر اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نےکہا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ویزا کے مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وزارتِ خزانہ میں ویزا (VISA) کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومتی اصلاحات سے پاکستان کی معیشت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام اورحکومت کے اصلاحاتی ایجنڈےکی بدولت نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام ہو رہا ہے ۔
وزیر خزانہ نے وفد کو بتایا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام میں بہتری کےلیے ڈیجیٹائزیشن پر کافی پیشرفت ہوئی ہے۔انہوں نے وفد کو پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے قیام، اسٹیٹ بینک کے تحت ادائیگی کے نظام میں اصلاحات، اور سرکاری وصولیوں و اخراجات کو ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وفدنے ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے منصوبوں میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔