Jasarat News:
2026-06-02@23:59:21 GMT

غزوئہ تبوک، ماہِ رجب 9ھ!

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

”نکلو(اللہ کی راہ میں)، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو‘‘ (سورہ توبہ:41)۔ اس موقع پر صحابیات نے جہاد کے لیے چندہ دینے میں ایسی مثالیں قائم کیں کہ جو تاقیامت یادگار رہیں گی۔ عورتوں نے اپنے زیورات اتار کے آنحضورؐ کی خدمت میں بھجوا دیے اور کئی خواتین یہ کہتی ہوئی سنی گئیں کہ ہمارا اصل زیور تو اسلام ہے۔ اگر اسلام کو کوئی گزند پہنچے اور ہم اپنے زیور سنبھال کر بیٹھی رہیں تو تف ہے ہمارے ایمان پر۔ مال دار صحابہ نے اپنا مال بے دریغ اللہ کے راستے میں پیش کیا مگر مفلس و غریب صحابہ بھی پیچھے نہ رہے۔ قبیلہ بنو اسلم سے تعلق رکھنے والی صحابیہ سیدہ ام سنانؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب آنحضورؐ نے غزوۂ تبوک کے لیے مالی امداد کی اپیل کی تو بہت سی عورتوں نے جن کے پاس کچھ نقدی تھی، ساری اللہ کے راستے میں لٹا دی۔ جن کے پاس اس وقت نقد رقم نہ تھی، انھوں نے اپنے زیورات پیش کر دیے۔ آنحضورؐ نے خواتین سے فرمایا کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے گھر میں آکر اپنی اعانتیں جمع کروائیں۔ سیدہ عائشہؓ کے گھر میں ایک چادر بچھا دی گئی تھی۔ ام سنانؓ کہتی ہیں کہ جب میں گھر میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اس چادر پر ہاتھی دانت اور سونے، چاندی کے زیورات کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ان میں ہاتھوں کے کنگن اور بازو بند بھی تھے۔ پائوں کی پازیبیں، کانوں کی بالیاں اور انگلیوں کی انگوٹھیاں بھی تھیں۔ اگرچہ مدینہ منورہ میں معاشی حالات خاصے پریشان کن تھے مگر اہلِ ایمان کا جذبۂ انفاق پورے جوبن پر تھا (مغازی للواقدی)۔

مال دار صحابہ کی شان تو یوں بیان کی گئی ہے کہ علامہ ابن کثیر کے بقول سیدنا عثمان بن عفانؓ آنحضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اشرفیوں سے بھری ہوئی ایک تھیلی آنحضورؐ کے سامنے لا کر ڈھیر کر دی۔ یہ ایک ہزار اشرفی کی رقم تھی، جو غزوۂ تبوک کے لیے ذوالنورینؓ نے پیش کی۔ آنحضورؐ اشرفیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر خوشی سے الٹ پلٹ کر رہے تھے اور دعا فرما رہے تھے: اے اللہ تو عثمان سے راضی اور خوش ہوجا بلاشبہ اس نے مجھے خوش کر دیا ہے۔ چونکہ عثمانؓ بہت مال دار تھے، اس لیے آنحضورؐ نے جب مزید ترغیب دی تو عثمانؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک سو اونٹ پورے ساز وسامان کے ساتھ جہاد کے لیے پیش کرتا ہوں۔ آپؐ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: اللہ تجھے برکت دے۔ آپؐ نے جب دو مرتبہ مزید ترغیب دی تو عثمانؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مزید دو سو اونٹ۔ اس طرح آپؓ نے تین سو اونٹ سازوسامان کے ساتھ پیش کیے۔ بعض روایات میں اس سے زیادہ اونٹوں یعنی آٹھ سو تک کا تذکرہ بھی ہے مگر مسند احمد اور ترمذی میں یہی تعداد بیان ہوئی ہے۔ آنحضورؐ خطبے سے فارغ ہونے کے بعد مسجد سے باہر نکلے اور اونٹوں کی گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ آپؐ مسلسل کہے جارہے تھے کہ عثمان نے اتنا بڑا کارِ خیر کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ وہ جو عمل بھی کرے گا، اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے البدایۃ والنھایۃ، المجلد الاول مطبوعہ موسسۃ المعارف دار ابن حزم بیروت)

اسی طرح سے سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی ساری دولت و ثروت کا نصف اللہ کے راستے میں پیش کر دیا۔ یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے گھر کا سارا اثاثہ لا کر پیش کر دیا۔ جب پوچھا گیا کہ گھر میں کیا چھوڑا ہے تو عرض کیا: اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت۔ سیدنا عبد الرحمان بن عوفؓ نے سونے چاندی اور درہم و دینار کی تھیلیاں لا کر پیش کیں۔ جب اللہ کے رسولؐ نے پوچھا کہ کتنے دینار اور کتنا سونا ہے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے بے حساب دیتا ہے، مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ میں اس کے راستے میں گن گن کر دوں۔ میں نے تو بغیر گنے اور بغیر تولے اللہ کی راہ میں یہ حصہ پیش کر دیا ہے۔ آپؐ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تیرے دیے ہوئے کو بھی برکت عطا فرمائے اور جو تو نے پیچھے گھر میں چھوڑا ہے اللہ اس میں بھی برکت دے (تفسیر ابن کثیر، تفہیم القرآن دیباچہ سورۃ توبہ)
سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ، عباس بن عبد المطلبؓ، سعد بن عبادہؓ اور محمد بن مسلمہؓ انصاری سبھی صحابہ نے دل کھول کر مال پیش کیا اور رسول اللہ نے ان سب کی تعریف بھی کی اور ان کی مغفرت کی دعائیں بھی کیں (مغازی للواقدی)۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا کارنامہ اتنا بلند ہے کہ خود آنحضورؐ نے بھی ان کی قربانی کی مثال دیکھی تو آپؐ عش عش کر اٹھے اور آپؐ نے جب سیدنا ابوبکرؓ سے کہا کہ کچھ اہل و عیال کے لیے بھی چھوڑا ہوتا تو انھوں نے عرض کیا کہ اہل و عیال کے لیے اللہ اور رسول کی محبت چھوڑ آیا ہوں، جو ان کے لیے کافی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بانگِ درا میں صدیقؓ کے عنوان کے تحت جو نظم لکھی ہے، اس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور عمرؓ دونوں کا تذکرہ کیا ہے، نظم کے آخری اشعار میں انھوں نے آنحضورؐ اور یارِ غارؓ کا مکالمہ یوں منظوم کیا ہے ؂
بولے حضورؐ چاہیے فکرِ عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار
اے تجھ سے دیدۂ مہ وانجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

سیدنا عمرؓ نے ابوبکر صدیقؓ کے اس عظیم الشان کارنامے پر کہا: بخدا نیکی و خیر کے کاموں میں جب بھی مسابقت ہوئی تو ابوبکرؓ سب سے سبقت لے گئے۔ سچی بات یہ ہے کہ صحابہ سبھی کے سبھی روشن ستارے تھے مگر یارِ غار کا مقام ومرتبہ تو اتنا عالی شان ہے کہ ان کی گرد کو پہنچنا بھی کارِ دارد ہے۔ کئی صحابہ کرام کی مثالیں مورخین نے بیان کی ہیں کہ وہ اپنے پاس سواریاں نہیں رکھتے تھے اور آنحضورؐ نے بھی ان جاں نثاروں سے فرمایا کہ آپ کے پاس ان کو جہاد تک لے جانے کے لیے سواری کا انتظام نہیں ہے۔ ایک جانب تو یہ لوگ جہاد سے محرومی کے غم پر روتے تھے ا ور دوسری جانب ان کی یہ کیفیت تھی کہ جتنا کچھ بھی ان کے پاس زادِ سفر تھا، وہ لے کر آتے اور جنگ پر جانے والے مجاہدین میں سے کسی کے سپرد کر دیتے۔ پھر جن صحابہ کے پاس ایک سے زیادہ سواریاں تھیں، وہ ایک سواری اپنے لیے رکھ لیتے اور دوسری سواری اپنے بھائیوں میں سے دو تین کو منتخب کرکے ان کے سپرد کر دیتے کہ تم باری باری اس پر سوار ہوتے رہنا۔ جو لوگ اپنی سواریوں پر جا رہے تھے انھوں نے رضاکارانہ طور پر سواریوں سے محروم صحابہ کو باری باری اپنے ساتھ سوار ہونے میں شامل کر لیا تھا (مغازی للواقدی)۔
جو لوگ جہاد پر جانے سے محرومی کی وجہ سے غم زدہ ہوئے، ان کا تذکرہ قرآن اور حدیث میں ملتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان لوگوں پر کسی اعتراض کا موقع ہے نہ وہ مواخذے کے مستحق ہیں جنھوں نے خود آکر [اے نبی] تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں اور جب تم نے کہا کہ میں تمھارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انھیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریکِ جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے“ (توبہ:92)۔ نبی اکرمؐ جب جہاد پر روانہ ہوگئے تو آپؐ نے کچھ منزلیں طے کرنے کے بعد ایک روز مدینہ کی جانب رخ پھیرا اور صحابہ کرام سے فرمایا: مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے جو وادی بھی طے کی اور جو قدم بھی اٹھائے، اس میں وہ تمھارے شانہ بشانہ رہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم تو اس مشکل سفر کی آزمائشیں برداشت کر رہے ہیں اور وہ مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر ہمارے ساتھ ان کی شمولیت کیسی؟ آپؐ نے فرمایا: وہ پیچھے رہنے والے نہیں تھے مگر انھیں مجبوری نے روک لیا ہے (صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر باب من حبسھم العذر)۔ گویا ان کے دل اہلِ ایمان کے ساتھ تھے اور ان کی مخلصانہ دعائیں بھی ان کے لیے مختص تھیں، اگر وہ مجبور نہ ہوتے تو کب اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے بیٹھ جاتے۔

حافظ محمد ادریس گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رسول اللہ کے راستے میں نے عرض کیا انھوں نے اللہ کے کے ساتھ اللہ کی تھے اور گھر میں رہے تھے کر دیا کے لیے بھی ان پیش کی پیش کر اور ان کے پاس ہیں کہ

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق