طاقت کی دوڑ: بڑھتی عسکری برتری اور کمزور ہوتا مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلاشبہ عصرِ حاضر کی دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کی تعریف محض عسکری برتری، ایٹمی توازن اور ہتھیاروں کے ذخائر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ بڑی طاقتیں جدید جنگی جہازوں، خلائی دفاعی نظاموں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور میزائل شیلڈز پر کھربوں کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار اپنی ظاہری چمک میں متاثر کن دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان اعداد کے پس منظر میں ایک ایسی خاموش لرزش بھی پوشیدہ ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ طاقت کے یہ ڈھانچے بظاہر دفاعی حکمت ِ عملی کہلاتے ہیں مگر درحقیقت وہ خوف، عدم اعتماد اور عدمِ مکالمہ کی بنیاد پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جب طاقت مکالمے سے آزاد ہو جاتی ہے، تو وہ امن کے بجائے خطرے کو جنم دیتی ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ممکنہ تصادم کی لکیریں واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
عالمی سیاسیت کی بساط پر اب جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ لیبارٹریوں، تحقیقی مراکز، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور معاشی پالیسیوں میں تخلیق ہوتی ہے۔ ایک طرف جدید اسلحے کے تجربات ہیں، دوسری جانب طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے نام پر مسلسل ہتھیاروں کی دوڑ۔ یہ دوڑ کسی ایک ملک کی مجبوری نہیں بلکہ عالمی اسٹرکچر کا حصہ بن چکی ہے، جسے سلامتی کے بیانیے، قومی مفاد اور عالمی قیادت کے فیصلوں سے تقویت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا معاہدہ، ہر نئی تکنیکی پیش رفت اور ہر دفاعی بجٹ صرف ایک ملک کی طاقت نہیں بڑھاتا بلکہ خطے بھر میں خوف اور ردِعمل کی ایک نئی لہر کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس ردِعمل میں نئی صف بندیاں بنتی ہیں، نئے بلاکس ابھرتے ہیں، اور دنیا ایک بار پھر اْس ذہنی کیفیت کے قریب جا کھڑی ہوتی ہے جسے مورخین سرد جنگی پراسراریت اور عسکری مقابلہ آرائی کہتے ہیں۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت جب بات چیت سے منقطع ہو جائے تو فاصلے بڑھتے ہیں، اور فاصلے جب بڑھیں تو جنگ کے امکانات محض تصور نہیں رہتے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں محض اتفاقی حادثے نہیں تھیں، وہ عدمِ بصیرت، تعصب، جارحانہ سفارت کاری اور طاقت کی اس نفسیات کے نتائج تھیں جس میں مکالمہ کمزور اور عسکری فیصلہ سازی غالب ہو جاتی ہے۔ آج دنیا ایک مرتبہ پھر اسی سمت دھکیلی جا رہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار جنگ کے محرکات زیادہ پیچیدہ، تیز رفتار اور ہمہ جہت ہیں۔ اب محاذ صرف زمینی سرحد پر نہیں بنتا، بلکہ معلومات، معیشت، خلائی نظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کھلتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معمولی غلط فہمی، غلط فیصلہ یا جذباتی اقدام کے نتیجے میں ہونے والا تصادم پوری دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنی دفاعی منصوبہ بندی کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ وہ اسے استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا نام دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا یہ تصور انسانیت کو محفوظ بنا سکا ہے؟ اگر طاقت واقعی امن کا ضامن ہوتی تو آج لاکھوں انسان جنگی خوف کے سائے میں نہ جیتے، عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار نہ ہوتی، اور کمزور ممالک کے مستقبل پر فیصلہ ساز قوتیں مسلط نہ ہوتیں۔ عسکری ترقی جب سماجی انصاف، معاشی برابری اور انسانی فلاح سے کٹ جائے تو پھر وہ ترقی نہیں رہتی بلکہ ایک غیرمحسوس خطرہ بن جاتی ہے ایسا خطرہ جو خاموشی سے اقوام کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے اور دلوں میں بے یقینی بو دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت طاقت کے معنی ازسرنو متعین کرے۔ طاقت کا حقیقی تصور وہ ہونا چاہیے جو جنگی تیاری میں نہیں بلکہ سفارت، مفاہمت، مکالمہ اور ذمے دارانہ فیصلوں میں پوشیدہ ہو۔ امن کو محض ایک سیاسی نعرہ یا سفارتی علامت بنا کر چھوڑ دینے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ امن کو عملی پالیسی، تعلیمی نظام، میڈیا بیانیے اور بین الاقوامی تعلقات کا مرکزی محور بنانا ہوگا۔ دنیا کو ایسے فورموں کی ضرورت ہے جہاں اختلافات کو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ دلیل، رواداری اور اخلاقی بصیرت کے ساتھ حل کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ عالمی ماحول میں مکالمہ کمزور جبکہ عسکری خطابات زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں یہی وہ خامی ہے جو مستقبل کے کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتی ہے۔
عالمی سماج کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ہتھیار کبھی تحفظ کا مکمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اصل سلامتی طاقت کے ذخائر میں نہیں بلکہ انصاف، معاشرتی مساوات، معاشی استحکام اور انسانی وقار کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ اگر دنیا کے بجٹ کا محض ایک حصہ اسلحہ خانوں کے بجائے تعلیم، صحت، تحقیق، ماحول اور غربت کے خاتمے پر خرچ ہو تو شاید انسانیت کا رخ کسی نئی روشنی کی طرف مڑ جائے۔ مگر افسوس کہ آج بھی اعداد و شمار اشتعال پیدا کرنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، امن کی تشکیل کے لیے کم۔
یہ لمحہ اس سوال کا متقاضی ہے کہ کیا ہم طاقت کے موجودہ بیانیے کو اسی طرح قبول کرتے رہیں گے، یا پھر اس کے مقابل ایک ایسا فکری باب لکھیں گے جس میں طاقت اور امن کے درمیان توازن قائم ہو سکے؟ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کا امکان جتنا نظریاتی مسئلہ ہے، اتنا ہی عملی خطرہ بھی ہے۔ اگر طاقت کی بڑھتی ہوئی یہ ڈور مکالمے سے نہ جڑی تو کل کا مورخ شاید اس عہد کو ایک ایسے زمانے کے طور پر یاد کرے گا جس نے خبردار ہونے کے باوجود سبق نہ سیکھا۔
کاش کہ یہ وسیع اعداد و شمار، بجٹ کی یہ بلند شرحیں اور عسکری ترقی کے یہ حیران کن مراحل کسی نئی کشیدگی کے بجائے امن کی راہیں ہموار کریں۔ کاش کہ طاقت کی دوڑ کسی وقت رک کر انسانیت کی طرف پلٹ آئے اور دنیا کو یہ احساس ہو کہ امن اب بھی ایک خواب نہیں بلکہ ایک قابل ِ حصول حقیقت بن سکتا ہے، اگر طاقت کو گفتگو اور حکمت کے تابع کر دیا جائے۔ مگر فی الحال، امن بدستور ایک حسین مگر ادھورا خواب ہے اور اسی خواب کو حقیقت میں بدلنا آنے والی نسلوں کے لیے ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ طاقت کی طاقت کے کے لیے
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔