ٹرمپ کا بین الاقوامی قانون ماننے سے انکار، اقوام متحدہ نے ’سامراجی دور‘ کی واپسی کا خدشہ ظاہر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون کو کھلے عام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عالمی قوانین کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کی اپنی ’اخلاقیات‘ ہی دنیا میں جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے کافی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عالمی قوانین کے پابند ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کی صبح امریکا نے وینزویلا پر اچانک فوجی حملہ کیا، اس دوران دارالحکومت کاراکاس اور کئی فوجی اڈوں پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی فوج نے اس کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر لیا۔
ناقدین کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے منع کرتا ہے۔
وینزویلا کے تیل پر امریکی نظریںحملے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا وینزویلا کو ’چلائے گا‘ اور اس کے تیل کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا۔ اگرچہ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عبوری صدر ڈیلسے روڈریگز کے ساتھ تعاون کرے گی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ پالیسی فیصلے امریکا ہی طے کرے گا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ عبوری حکومت نے امریکی مطالبات نہ مانے تو ’دوسری لہر‘ کے طور پر مزید فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا ’اگر اس نے درست کام نہ کیا تو اسے بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
ٹرمپ نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ امریکا کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گستاوو پیٹرو کے خلاف بھی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا بھی بار بار اظہار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی: صدر ٹرمپ کا امریکا کو 66 بین الاقوامی اور عالمی تنظیموں سے الگ کرنے کا اعلان
یاد رہے کہ جون میں ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی اور ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات پر بمباری کا حکم دیا۔
امریکی مشیر کا عالمی نظام پر حملہٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیفن ملر نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب امریکا بلا جھجک اپنی فوجی طاقت استعمال کرے گا۔
انہوں نے کہا ’ہم ایک سپر پاور ہیں، اور صدر ٹرمپ کے دور میں ہم ایک سپر پاور کی طرح ہی برتاؤ کریں گے۔‘
اقوام متحدہ اور ماہرین کی سخت تشویشاقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مارگریٹ سیٹر تھویٹ نے عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ امریکی بیانات ’انتہائی خطرناک‘ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک بار پھر ’سامراجی دور‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں پر زبردستی اپنا اثر و رسوخ قائم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کا امریکی دفاعی بجٹ 1.
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کیا گیا تو دوسرے ممالک بھی جارحیت پر اتر سکتے ہیں، جس سے عالمی امن شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
’طاقت ہی حق ہے‘ کا نظریہ خطرناک ہےبین الاقوامی قانون کی ماہر یُسرا سویدی نے کہا کہ یہ سوچ کہ ’طاقت ہی سب کچھ ہے‘ نہایت خطرناک ہے۔
ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے چین جیسے ممالک کو تائیوان اور روس کو یوکرین کے خلاف مزید جارحیت کا جواز مل سکتا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر ایان ہرڈ نے کہا کہ لاطینی امریکا میں امریکی مداخلت کی ایک طویل اور تلخ تاریخ ہے۔
انہوں نے پاناما، ہیٹی، نکاراگوا اور چلی جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی مداخلتیں ہمیشہ عدم استحکام، جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب بنی ہیں۔
ان کے مطابق وینزویلا میں ٹرمپ کی پالیسی بھی اسی پرانی سوچ کا تسلسل ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کو ایسی مداخلتوں پر ہمیشہ پچھتانا پڑا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بین الاقوامی قوانین وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بین الاقوامی قوانین وینزویلا بین الاقوامی قانون اقوام متحدہ انہوں نے کے خلاف کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز