فیفا ورلڈکپ 2026 کیلیے فیفا اور ٹک ٹاک کے درمیان تاریخی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
فیفا نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تاریخ میں پہلی بار کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ویڈیو مواد کے لیے ’ترجیحی پلیٹ فارم‘ قرار دے دیا ہے۔
فیفا اور ٹک ٹاک کے درمیان نئے معاہدے کے مطابق ٹک ٹاک کریئیٹرز کو 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ کے دوران خصوصی رسائی دی جائے گی۔
یہ ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک منعقد ہوگا اور اس کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے۔
میچز 16 شہروں میں کھیلے جائیں گے جن میں 11 امریکی، تین میکسیکن اور دو کینیڈین شہر شامل ہیں۔
فیفا کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے براڈکاسٹ رائٹس رکھنے والے ادارے ٹک ٹاک ایپ پر ایک مخصوص ہب کے ذریعے 104 میچز کے منتخب حصے لائیو اسٹریم کر سکیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026: آغاز سے قبل ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈز پاش پاش ہوگئے
اس کے علاوہ مختلف کریئیٹرز کو فیفا کے تاریخی آرکائیول فوٹیج کو استعمال کرنے اور اس پر نیا مواد تیار کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
تاہم فیفا نے معاہدے کی مالی تفصیلات، بولی کے عمل یا یہ واضح نہیں کیا کہ لائیو اسٹریم میں کون سا مواد دکھایا جائے گا، خاص طور پر ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں تجارتی شراکت داروں کے حقوق سخت شرائط کے تحت محفوظ ہوتے ہیں۔
اس سے قبل 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں یوٹیوب کو محدود نوعیت کی شراکت داری حاصل تھی۔
واضح رہے کہ میزبان ملک امریکا میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 170 ملین سے زائد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔