لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں سنادیں کیا ایسے ملک چلے گا، فواد چودھری
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں سنادیں کیا ایسے ملک چلے گا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہماری حکومت کو روز ایک تماشا چاہیے، اپوزیشن کی طرف سے بھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی جاتی ہے، گوہر صاحب نے اگرعہدہ قبول کیا ہے تو تھوڑی ہمت بھی دکھائیں۔
فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ مذاکرات چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آصف زرداری اور شہباز شریف ان مذاکرات کی اونر شپ لیں، لڑائی آپ کی ہو رہی ہے کہ بھگت پاکستان رہا ہے۔
پی ٹی آئی کا کراچی میں تاریخ کا سب سے بڑاجلسہ کرنے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ابھی تک خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، دوسری طرف سے سہیل آفریدی کے متعلق جو بیان آیا وہ افسوسناک ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم ملتان جارہے ہیں، بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل سے رہا کیا جائے، پی ٹی آئی کے اصل سٹیک ہولڈرز تو جیلوں میں ہیں، شاہ محمود قریشی سمیت تمام لیڈرشپ مذاکرات کا کہہ چکی ہے، پی ٹی آئی کے اصل لوگوں کو آپ نے ٹھڈے مکے مار کے نکال دیا۔
فواد چودھری نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے، ہماری آمدنی اس وقت 2015 کے لیول پر چلی گئی ہے۔
کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں: ٹرمپ
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی اوور سیز پاکستانی اس وقت ایک ڈالر انویسٹ کرنے کو تیار نہیں، ہم اوور سیز پاکستانیوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا کہا ہے، مذاکرات کے لیے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت نیچے لانا ہوگا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فواد چودھری نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔