پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 1,35,000 نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے۔
یہ کامیابی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی وژن اور مربوط سہولت کاری کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے، جس نے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری مارکیٹ کو مستحکم کر کے عالمی سطح پر اہم مقام دلایا ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی عالمی سطح پر شاندار پرفارمنسپاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے عالمی سطح پر دوسری بہترین پرفارمنس دینے والی مارکیٹ کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کے بہتر سرمایہ کاری ماحول میں اعتماد رکھتے ہیں۔
معاشی مشیر کا مؤقفوزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا میکرو اکنامک ماحول سرمایہ کاری کے لیے نہ صرف پرکشش بلکہ قابلِ اعتماد بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کے مواقع مزید بہتر اور مستحکم مستقبل کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عالمی سطح پر مارکیٹ کی شاندار پرفارمنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سرمایہ کاری مارکیٹ اعتماد اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک عالمی سطح پر سرمایہ کاری
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔