حارث وحید کے والد کے ساتھ عمرے کے دوران معجزاتی واقعہ، اداکار نے ویڈیو شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستانی اداکار حارث وحید نے عمرے کے دوران اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے معجزاتی واقعے کا ذکر کیا ہے۔
حارث وحید نے حال ہی میں اپنے والد کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی جس دوران پیش آنے والے واقعے کو انہوں نے اپنے مداحوں کے ساتھ بھی شیئر کیا۔
اداکار نے انسٹاگرام پر عمرے کی ادائیگی کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کے والد ویل چیئر پر نظر آ رہے ہیں۔
اداکار کے مطابق ان کے والد عمرے کی ادائیگی کے لیے ویل چیئر پر گئے تھے تاہم وہ اپنے قدموں پر چلتے ہوئے وطن واپس آئے ہیں۔
View this post on Instagramحارث وحید نے مزید لکھا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، یہ سب اللہ کی مہربانی ہے اور وہ اپنے والد کے لیے بے حد خوش ہیں۔
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اداکار کے چاہنے والوں نے عمرے کی مبارک باد دی اور ان کے والد کی سلامتی کے لیے دعائیں بھی کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: والد کے عمرے کی کے والد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔