اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)  وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی سطح پر مذاکرات کا آغاز  ہو جائے تو بات چیت کا دائرہ کار  مرکزی قیادت کی سطح تک وسیع ہوسکتا ہے ۔ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے ، حکومت تیار ہے۔

طارق فضل چوہدری نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹ ہیں، پی ٹی آئی کا ایک گروپ حکومت،دوسرا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتا ہے، پی ٹی آئی کی خواہش کا وزیراعظم اور حکومتی ٹیم نے مثبت جواب دیا، ہم پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حق میں ہیں ۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کے باعث منسوخ

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے، مذاکرات میں دو اور دو چار کا فارمولا نہیں ہوتا ،  اسپیکر قومی اسمبلی نیوٹرل فورم ہے ،  مذاکرات شروع ہوجائیں تو مرکزی قیادت کی سطح پر جاسکتے ہیں،  اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہ ہونا مذاکرات نہ کرنے کے بہانے ہیں  ۔ 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: مذاکرات کے پی ٹی آئی

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع