وفاقی حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہ ہونے کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو جائے تو بات چیت کا دائرہ کار مرکزی قیادت کی سطح تک وسیع ہوسکتا ہے ۔ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے ، حکومت تیار ہے۔
طارق فضل چوہدری نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹ ہیں، پی ٹی آئی کا ایک گروپ حکومت،دوسرا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتا ہے، پی ٹی آئی کی خواہش کا وزیراعظم اور حکومتی ٹیم نے مثبت جواب دیا، ہم پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حق میں ہیں ۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کے باعث منسوخ
وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے، مذاکرات میں دو اور دو چار کا فارمولا نہیں ہوتا ، اسپیکر قومی اسمبلی نیوٹرل فورم ہے ، مذاکرات شروع ہوجائیں تو مرکزی قیادت کی سطح پر جاسکتے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہ ہونا مذاکرات نہ کرنے کے بہانے ہیں ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مذاکرات کے پی ٹی آئی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔