پاکستان کو ایوی ایشن شعبے میں بڑا اعزاز حاصل ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کٹائی کو ہوائی اڈوں کی عالمی تنظیم ایئرورٹس کونسل انٹرنیشنل میں رکنیت دے دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ (کٹائی) کو ہوائی اڈوں کی عالمی تنظیم ایئرورٹس کونسل انٹرنیشنل میں رکنیت دے دی گئی۔ سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا اہم ذیلی ادارہ ہے۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹس کونسل میں شمولیت ملنا پاکستان کی ایوی ایشن کیلئے مثبت عمل ہے۔ عالمی سول ایوی ایشن کے حکام بھی سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ میں کورسز کروانے آتے ہیں۔ سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ میں ایوی ایشن سے متعلق 208 بین الاقوامی معیار کے تربیتی کورس کروائے جاتے ہیں اور اب تک 48 سے زائد ممالک کے سول ایوی ایشن سے منسلک ایوی ایشن ماہرین کو کورسز کروا چکے ہیں۔
پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جوائن کرنے والے افسران اور عملے کو تربیتی ایوی ایشن کورسز کیلئے سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ سے کورسز کرنا لازمی ہوتا ہے۔ عالمی تنظیم ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل کے 170 ممالک رکن ہیں۔ حکومت نے ایوی ایشن شعبے کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے وزارت دفاع کو ٹاسک دے رکھا ہے۔ سول ایوی ایشن ٹریںنگ انسٹیٹیوٹ کا ایئرپورٹس کی عالمی تنظیم میں شامل ہونا ان ہی کاوشوں کا تسلسل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی تنظیم
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔