پھالیہ، نجی بینک ملازم 3 کروڑ سے زائد کی غیر ملکی کرنسی لےاڑا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پھالیہ (نیوزڈیسک )ایکسچینج ملازم ارقم طارق 93 ہزار یورو حبیب بینک ایکسچینج جمع کروانے نکلا،مگر راستےہی سے غائب ہوگیا،پولیس۔نجی بینک کا ایک ملازم تقریباً 3 کروڑ 5 لاکھ روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی لے کر فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ایکسچینج ملازم ارقم طارق 93 ہزار یورو حبیب بینک ایکسچینج میں جمع کروانے کے لیے نکلا تھا، تاہم راستے ہی سے غائب ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رقم لے کر دوسرے بینک نہ پہنچنے کا انکشاف ہوتے ہی بینک انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی اور فوری طور پر واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔
تھانہ پھالیہ پولیس نے بوتھ آفیسر عزیز اشفاق کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم بینک ملازم کے خلاف دفعہ 408 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ ملزم تاحال فرار ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔