میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون ہے، اسی ناانصافی کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک شروع کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری سونپی ہے، ہم اقتدار کیلئے نہیں بلکہ حقیقی آزادی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں، مذاکرات کا معاملہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے پاس ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کراچی پریس کلب کی نئی کابینہ کو مبارکباد دی اور تاخیر سے آمد پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کے بھرپور استقبال اور رش کے باعث کراچی پہنچنے میں چھ گھنٹے لگے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے جس محبت سے خوش آمدید کہا اس پر شکرگزار ہوں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب میں جعلی حکومت کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں رہا، پنجاب اسمبلی میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ رویہ افسوسناک تھا، عمران خان کی ہدایت پر سندھ کے دارالحکومت کراچی آیا ہوں، جہاں تنظیمی دوستوں اور کارکنان سے ملاقاتیں کروں گا۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں جلسے کیلئے درخواست دی جا چکی ہے، تمام لوازمات پورے کیے گئے ہیں تاہم اب تک اجازت نامہ نہیں ملا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 11 تاریخ کو جناح گرانڈ میں جلسہ کیا جائے گا جو تاریخی ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون ہے، اسی ناانصافی کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک شروع کی گئی، عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ناحق قید میں ہیں، بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور اہلِ خانہ و رفقاء سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

وزیراعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ نو اپریل 2022ء کے بعد ملک میں حقیقی جمہوری حکومت نہیں آئی، ہماری جنگ ذاتی نہیں بلکہ عوام، میڈیا اور جمہوریت کی جنگ ہے، صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مثال ارشد شریف کی شہادت ہے، کراچی میں بہتری کے آثار ہیں مگر فسطائیت کے اثرات اب بھی نظر آتے ہیں۔ سندھ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں ابھی زرداری کی حکومت نظر آتی ہے، تاہم ہم فی الحال مطمئن ہیں، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی ہے اور عوام نے تیسری بار عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ آپریشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جرگے کے ذریعے تمام مکاتبِ فکر اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے متفقہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملٹری آپریشن نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ ہوا ہے اور ملاقات میں عوامی مسائل سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری جاری ہے، جبکہ مذاکرات کا معاملہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے پاس ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا