data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260110-08-19

 

لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کے رہنما حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ حکمرانوں کو عوام کا چھینا گیا حق حکمرانی واپس کرنا ہوگا۔پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ کے نام پر عوام سے فراڈ کیا گیا۔اس کالے بلدیاتی قانون کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔عوام 15جنوری کو بڑی تعداد میں ریفرنڈم میں حصہ لے کر اپنے چھینے گئے حقوق کی بحالی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ محمد ادریس نے کہا کہ مغرب اور یورپ اپنے عوام کی بڑی تعداد کو اسلام کی طرف راغب ہوتے دیکھ کر پریشان ہوچکے ہیں مگر دوسری طرف اسلامی ممالک کے حکمران ٹرمپ کی چاپلوسی اور خوشامد کے غلامانہ رویے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات گمبھیر سیگمبھیر تر ہورہے ہیں ،ہر طرف لاقانونیت ،انتشار اور مایوسی نے ڈیر ے ڈال رکھے ہیں۔عوام کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان حالات میں عوامی سطح پر ایک بہت بڑی تحریک کی ضرورت ہے۔اس ضرورت کے پیش نظر ہی جماعت اسلامی ظلم کے اس نظام کو بدلنے اور عوام کو ان کا حق حکمرانی واپس دلانے کے لیے میدان عمل میں ہے۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی