جرمنی، فرانس ، برطانیہ اور روس برفانی طوفان کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن ؍ پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک)یخ بستہ موسم نے کو فرانس اور برطانیہ کو جماکر رکھ دیا۔ طوفان گوریٹی شمالی یورپ سے تیزی سے گزرا، جس سے ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ ماہرین موسمیات نے برطانیہ سے جرمنی تک عوام سے اپنے اپنے گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے موسم کے حوالے سے خبردار کیا ۔ اس میں جنوب مغربی برطانیہ کے سکیلی اور کارن وال میں سرخ رنگ کی آندھی کا انتباہ بھی شامل تھا۔ فرانس میں شمالی نارمنڈی خطے میں تقریباً 3لاکھ 80ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہوئی، جبکہ برطانیہ میں تقریباً 65ہزار گھروں کو بجلی مہیا نہیں کی جا سکی۔حکام نے بتایا کہ رات کے وقت فرانس کے شمال مغربی علاقے میں 216 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کے جھکڑ ریکارڈ کیے گئے۔آندھی سے کئی علاقوں میں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔اطلاع کے مطابق برطانیہ کے بعض حصوں میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک آندھی آنے کی توقع ہے اور بڑی لہریں ساحلی علاقوں میں خطرناک حالات پیدا کرسکتی ہیں۔ ویلز، وسطی اور شمالی برطانیہ کے بعض حصوں میں برفباری کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے ،جب کہ بعض علاقوں میں 30 سینٹی میٹر تک برفباری کی پیشگوئی ہوئی ہے۔ برطانوی نیشنل ریلوے نے کہا ہے کہ آئندہ 2روز میں ٹرین سروسز متاثر ہوں گی، اور جب تک ضروری نہ ہو سفر سے گریز کریں۔ جمعہ کے روز شمالی فرانس میں اسکول بند رہے، جہاں 30 دیگر صوبوں میں موسمی وارننگ جاری کی گئیں ۔یورپ میں نا مساعد موسمی حالات سے 8افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جرمنی میں شمال میں شدید برفباری اور ہواؤں سے اسکول،اسپتال اور نقل و حمل کے روابط متاثر ہیں۔جرمن موسمیاتی سروس نے کہا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں 15 سینٹی میٹر تک برف پڑ سکتی ہے اور جنوب میں برف جم جانے کے باعث پھسلن کا خدشہ ہے۔ رواں ہفتے کے آخر میں درجہ حرارت بعض علاقوں میں منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ کئی علاقوں نے اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز اسکول بند رہیں گے، جن میں شمالی شہر ہیمبرگ اور بریمن شامل ہیں۔ ہیمبرگ میں جمعرات کے روز موسم کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں پہلے ہی تاخیر اور منسوخیاں ہو چکی تھیں۔ قومی ریلوے کمپنی نے آنے والے دنوں میں بڑی تاخیریوں کی وارننگ دی ہے اور پٹڑیوں اور پلیٹ فارمز سے برف صاف کرنے کے لیے 14ہزار سے زائد ملازمین کو متحرک کیا ہے۔ موسمیاتی سروس نے کہا کہ طوفان ہفتے کے روز تک اور برفباری پیر تک رک جائے گی۔واضح رہے کہ رواں موسم سرما کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران یورپ اور برطانیہ میں شدید قرار دیا جارہا ہے ۔ ادھر روس بھر میں برفانی طوفان نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ماسکو سمیت متعدد علاقوں میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ۔ محکمہ موسمیات نے ماسکو اور وسطی روس کے شہروں میں اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طاقتور سائیکلون نے روس کے وسطی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث مسلسل برف باری، برفیلی آندھی اور شدید منفی درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں اس شدت کی برف باری کو گزشتہ کئی دہائیوں میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ برفانی طوفان کے باعث ماسکو کے ہوائی اڈوں پر سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور کئی پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں ا ندھی کے روز
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔