روس اور چین وینزویلا کا تیل امریکا سے خریدیں گے، ٹرمپ کا نیا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل سے متعلق ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور روس امریکا کے ذریعے وینزویلا کا تیل خرید سکتے ہیں ، واشنگٹن وینزویلا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں امریکی آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور وہاں فوری طور پر تیل کا کاروبار شروع کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور وینزویلا کے پاس دنیا کے مجموعی تیل ذخائر کا تقریباً 55 فیصد موجود ہے ۔ امریکا نے صرف گزشتہ روز وینزویلا سے 3 کروڑ بیرل تیل حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا بروقت قدم نہ اٹھاتا تو روس یا چین وینزویلا میں اثر و رسوخ حاصل کر لیتے، اس لیے امریکا نے اس اسٹریٹجک موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا میں تیل کے شعبے میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آئل کمپنیوں کو وہاں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنا سکیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سی امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں کام کریں گی اور یہ کمپنیاں وینزویلا کے بجائے براہِ راست امریکا کے ساتھ معاہدے کریں گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات سے امریکی عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ امریکا اور وینزویلا کے تعلقات درست سمت میں جا رہے ہیں اور توانائی کے شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر شدید تنقید بھی کی اور الزام عائد کیا کہ مادورو نے متعدد افراد کو قتل کیا اور کئی لوگوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھامگر امریکا اپنے معاشی اور توانائی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں وینزویلا کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔