خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاعات پر 2 کارروائیاں، 11 خوارج جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
راولپنڈی (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر دو کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 11 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیر ستان ضلع میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی، کارروائی کے دوران اپنے دستوں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔
ضلع کرم میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے ایک اور مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی انجام دی جس میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، خوارج سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گرد سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن عزمِ استحکام کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل اور بھرپور انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان اور کرم میں کارروائیوں پر فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، ہمارے بہادر و فرض شناس افسران و جوانوں کے ہوتے ہوئے دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت نہیں کر سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کی جانب
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔