گھنے بالوں کا جھانسہ، شوہر گنجا نکلا؛ بیوی نے ایف آئی آر درج کرادی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
بھارت میں ایک خاتون نے اپنے شوہر اور چار سسرالیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی۔ ایف آئی آر میں ان افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے شوہر کا گنج پن چھپا کر 2024 میں خاتون کو شادی کے لیے دھوکا دیا ہے۔
بسراکھ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق خاتون لویکا گپتا اور ان کے شوہر سنیام جین 16 جنوری 2024 کو ازدواجی رشتے میں بندھے تھے۔
اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ شادی سے قبل سنیام جین اور ان کے خاندان نے ان کے ظاہری دِکھنے، تعلیم اور معاشی احوال سے متعلق متعدد تفصیلات کو چھپایا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ شادی کے بعد خاتون کے علم میں یہ بات آئی کہ ان کے خاوند صرف 12 ویں پاس ہیں جبکہ ان کے بائیو ڈیٹا میں بی کام کی ڈگری درج تھی۔ انہوں نے 18 لاکھ بھارتی روپے آمدنی سے متعلق بھی دھوکے میں رکھا۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ انہوں نے جب شادی کے لیے حامی بھری تو ان کو بتایا گیا تھا کہ سنیام کے گھنے بال ہیں لیکن بعد ازاں ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خاوند گنجے ہیں اور گنج پن چھپانے کے لیے وِگ لگاتے ہیں۔
پولیس اسٹیشن نے صحافیوں کو بتایا کہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خاوند نے ایک بیرون ملک سفر کے دوران ان کو زد و کوب بھی کیا اور تھائی لینڈ سے بھارت بھنگ لانے کے لیے دباؤ ڈالا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ر کہ ان کے کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت