عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 January, 2026 سب نیوز
تہران (سب نیوز )ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے اور سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور ملک گیر ہڑتالوں کو وسعت دیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رضا پہلوی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے جدوجہد تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی سڑکیں کسی جابر حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہیں اور عوامی احتجاج ہی کسی بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔
رضا پہلوی نے امید ظاہر کی کہ 14 دنوں سے جاری سڑکوں پر عوام کا ہونا اب ایک قومی تحریک میں بدل چکا ہے۔انھوں نے مزید کہا جس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع تر ہو، ڈٹے رہے اور عوام سڑکوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھیں۔رضا پہلوی نے سرکاری ملازمین، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ افراد، ٹرک ڈرائیورز، اساتذہ، نرسوں، تعلیمی ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، پنشنرز اور معاشی مشکلات کا شکار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ہمہ گیر ہڑتالوں اور مظاہروں کی حمایت کریں۔
رضا پہلوی اکتوبر 1960 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔شاہی خاندان کے واحد مرد وارث ہونے کے باعث ان کی پرورش خصوصی اور پرتعیش ماحول میں ہوئی۔انہوں نے نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور بچپن ہی سے انہیں بادشاہت کے فرائض کے لیے تیار کیا جاتا رہا۔
نوجوانی میں انہیں امریکی ریاست ٹیکساس بھیجا گیا جہاں وہ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب نے ان کے مستقبل کا رخ بدل دیا۔انقلاب کے نتیجے میں شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امام خمینی کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد رضا پہلوی امریکا میں ہی مقیم ہوگئے۔بعد ازاں انہوں نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور ایک ایرانی نژاد امریکی وکیل یاسمین پہلوی سے شادی کی، جن سے ان کی تین بیٹیاں نور، ایمان اور فرح ہیں۔
رضا پہلوی آج خود کو تخت کے دعوے دار کے بجائے قومی مصالحت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو آزادانہ انتخابات، قانون کی بالادستی، اور مرد و عورت کے مساوی حقوق کی جانب لے جانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ان کے مطابق ایران کا مستقبل بادشاہت ہو یا جمہوری نظام، اس کا فیصلہ عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہیے نہ کہ کسی فرد یا گروہ کو مسلط کرنا چاہیے۔
گزشتہ برسوں میں ایران میں پہلوی خاندان کے حوالے سے بحث دوبارہ زور پکڑتی نظر آئی ہے۔ 2017 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں رضا پہلوی کے دادا کے حق میں نعرے لگائے گئے۔اسی طرح 2022 میں پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے وسیع احتجاجی سلسلے نے رضا پہلوی کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ دلائی۔
اگرچہ انھوں نے بیرون ملک بیٹھ کر ایرانی اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں کیں تاہم ناقدین کے مطابق وہ اب تک کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا مثر آزاد میڈیا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ان کی سیاسی تحریک تسلسل برقرار نہ رکھ سکی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی مظاہروں سے اسرائیل جو توقع کر رہا ہے وہ پوری نہیں ہوگی، ایرانیوں کو معلوم ہے کس حد تک ردعمل دینا ہے: ترکیے ایرانی مظاہروں سے اسرائیل جو توقع کر رہا ہے وہ پوری نہیں ہوگی، ایرانیوں کو معلوم ہے کس حد تک ردعمل دینا ہے: ترکیے پاکستان تحریک انصاف کو کل جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی دو طرفہ تجارت کا فروغ: انڈونیشیا-پاکستان جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے قیام پر ا تفاق مرکزی دربارِ عالیہ موہڑہ شریف مری میں سالانہ قرآن خوانی کی محافل کا انعقاد 16, 17 جنوری کو ہوگا وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ سعودی عرب، مدینہ منورہ سے جدہ پہنچ گئے ایتھوپیا کے سب سے بڑا ایویشن انفراسٹرکچر پروجیکٹ کا افتتاحCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رضا پہلوی سڑکوں پر ایران کے عوام سے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔