ریڈیو پاکستان حملہ کیس: عدالت نے تفتیشی افسر کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
انسداد دہشت گرددی عدالت (اے ٹی سی) پشاور کی خصوصی کورٹ میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت میں ملزمان اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی سی بی) کے وکیل پیش ہوئے، اس موقع پر پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ پیش کی گئی۔
عدالت نے رپورٹ کی اصل پولیس کو واپس کردی جبکہ نقل فائل پر لگادی اور اگلی پیشی پر تفتیشی افسر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔
دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی کی بطور اسپیشل پراسیکیوٹر تقرری کا اعلامیہ پیش کیا گیا، جس پر پی سی بی کے وکیل نےاعتراض اٹھایا۔
وکیل نے کہا کہ محمد انعام یوسفزئی اس کیس میں 2 ملزمان کے وکیل رہے ہیں، بطور اسپیشل پراسیکیوٹر ان کی تقرری غیر قانونی ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی کو نوٹس جاری کیا اور اگلی پیشی پر اے اے جی کو طلب کرلیا۔
اس موقع پر پراسیکیوشن نے کہا کہ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر مشتمل مظاہرین نے دھاوا بول دیا تھا، مظاہرین نے عمارت کو آگ لگائی اور نجی اور سرکاری املاک کو جلایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تھانہ شرقی پولیس نے 80 سے زیادہ ملزمان کو نامزد کیا، جن میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، ارکان اسمبلی فضل الہٰی، آصف خان اور پی ٹی آئی کے کارکن شامل ہیں، 9 ملزمان تاحال رپورش ہیں۔
اے ٹی سی پشاور کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔