کراچی میں شدید سردی، درجہ حرارت 8 ڈگری تک پہنچ گیا، مزید کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کوئٹہ کی سرد ہوائیں داخل ہونے کے بعد کراچی میں درجہ حرارت 7.9 تک گر گیا۔
تفصیلات کے مطابق شہرمیں کوئٹہ(بلوچستان) کی جانب سے یخ بستہ ہوائیں چلنے کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات کےمطابق اگلے48 تا 72 گھنٹوں کےدوران شہرکا موسم خشک اورسرد رہنے کا امکان ہے۔
ہفتےکی صبح دوسرے روزبھی شہرکا کم سے کم پارہ 9.
محکمہ موسمیات کےمطابق شمال مشرقی سمت سےچلنے والی ہواوں کی رفتار27 کلومیٹرفی گھنٹہ ریکارڈ ہوئی۔ محکمہ موسمیات کےمطابق شہرمیں سردی کی موجودہ لہر13جنوری تک برقراررہ سکتی ہے، جس کےبعد ہواوں کی رفتارمیں کمی درجہ حرارت میں قدرے اضافے کے بعد موسم معتدل رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے موجودہ سردی کی لہرکے دوران شہریوں کواحتیاطی تدابیراختیارکرنے کا مشورہ دیا ہے،خصوصا صبح و رات کے وقت گرم ملبوسات کویقینی بنانے کا مشورہ دیا ہے۔
کئی روزسےجاری سردی کی لہرکی وجہ سے شہریوں کی جانب سےسوپ، یخنی اوردیگرگرم مشروبات کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات سردی کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔